ایران پر حملے میں امریکی تاریخ کی سب سے بڑی بی ٹو اسٹرائیک کی گئی، سربراہ امریکی فضائیہ

ایران پر حملے میں امریکی تاریخ کی سب سے بڑی بی ٹو اسٹرائیک کی گئی، سربراہ امریکی فضائیہ

امریکی فضائیہ کے سربراہ جنرل ڈین کین کا کہنا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی بی ٹو اسٹرائیک تھی۔





امریکا نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایران کی تین ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا۔ اس حملے سے متعلق واشنگٹن پینٹاگون میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایئر فورس جنرل ڈین کین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

سربراہ امریکی فضائیہ جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ کل رات ایران کی ایٹمی تنصیبات پر کیا جانے والا حملہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی بی ٹو اسٹرائیک تھی۔ ایران کیخلاف آپریشن انتہائی خفیہ اور اعلیٰ سطح کا تھا جس کا علم واشنگٹن میں صرف مخصوص شخصیات کو ہی تھا۔





جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکا کا آپریشن ایران میں رجیم چینج کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے لیے خطرات کو کم کرنے کے لیے کیا گیا۔ ’’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘‘ جنرل کوریلا کی سربراہی میں کیا گیا، جس میں صرف ایران کی جوہری تنصیبات کو ہی نشانہ بنایا گیا اور صدر ٹرمپ کے حکم پر تین جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔

انہوں نے آپریشن کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایرانی وقت کے مطابق رات 2 بجے کے بعد ٹوماہاک میزائلوں سے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں 7 بی ٹو بمبار طیارے شامل تھے۔ اس کے علاوہ آبدوزوں سے دو درجن سے زائد ٹاما ہاک میزائل فائر کیے گئے

سربراہ امریکی فضائیہ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں تمام تکنیکی اداروں کی مدد حاصل تھی اور آپریشن میں شریک ہر اہلکار نے بہترین کام کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔