ایران پر حملے کی مذمت کرنے والے ممالک بھی ہم سے متفق ہیں، امریکی وزیر خارجہ

ایران پر حملے کی مذمت کرنے والے ممالک بھی ہم سے متفق ہیں، امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نہیں کر رہے امریکی حملے کی مذمت کرنے والے ممالک بھی ہم سے متفق ہیں۔





امریکا کے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملوں سے متعلق میڈیا سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ جنگ ایران کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی ہے۔ امریکی آپریشن کے نتیجے میں دنیا 24 گھنٹے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ محفوظ اور مستحکم ہو گئی ہے۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران سے بات چیت کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے ہماری پیشکش اب بھی موجود ہے۔ تاہم ایران نے جوابی حملہ کیا تو یہ اس کی بدترین غلطی ہوگی۔





انہوں نے کہا کہ ایرانی جوہر ی پروگرام پر حملے سے ناخوش صرف ایرانی رجیم ہی ہے، ورنہ ایران پر امریکی حملے کی مذمت کرنے والے ممالک بھی ہم سے متفق ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ کارروائی ضروری تھی۔ ان ممالک کی مذمت صرف اپنے عوام کو دکھانے کے لیے ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرم نے 67 دن قبل ایران سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بات کی اور واضح کیا کہ جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ وہ اس کا حل سفارتی اور پر امن طریقے سے نکالنا چاہتے تھے اور انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو وہ دوسرے طریقے سے نمٹیں گے اور ٹرمپ نے گزشتہ رات وہی کیا اور مختلف طریقے سے اس معاملے سے نمٹا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ گیم کھیلنا بڑی غلطی ہے۔ امریکا حملہ ہماری نہیں بلکہ ایران کی چوائس تھی اور یہی آپشن تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔