مسجد الحرام میں جان قربان کرنے والا ہیرو سامنے آ گیا! خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا بہادر افسر کون ہے

**مسجد الحرام میں جان قربان کرنے والا ہیرو سامنے آ گیا! خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا بہادر افسر کون ہے؟**

مکہ مکرمہ کی **مسجد الحرام** میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے کے دوران ایک سیکیورٹی افسر نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک شخص کی جان بچا لی۔ اب اس بہادر افسر کی شناخت سامنے آ گئی ہے، جسے ہر طرف سے خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

[live_countdown_box]

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق، ایک شخص نے مسجد الحرام کی بالائی منزل سے **خودکشی کی کوشش** کی اور نیچے چھلانگ لگا دی۔ اس موقع پر **اسپیشل فورس برائے سیکیورٹی مسجد الحرام** نے فوری کارروائی کی۔ ایک سیکیورٹی افسر نے گرنے والے شخص کو بچانے کی کوشش میں خود کو اس کے نیچے کر لیا، جس کے نتیجے میں افسر زخمی ہو گیا۔

[whatsapp_join]

بعد ازاں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق زخمی ہونے والے افسر کا نام **ریان بن سعید العسری** ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم *Inside the Haramain* نے ان کی اسپتال کے بستر پر لی گئی تصویر شیئر کی، جس میں وہ صحت یاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ تصویر کے ساتھ دعا کی گئی کہ اللہ ان کی کوشش قبول فرمائے اور جلد صحت عطا کرے۔

اسپتال میں قیام کے دوران، سعودی وزیرِ داخلہ **شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف** نے ریان العسری کو فون کر کے ان کی بہادری، فرض شناسی اور ہوشیاری کو سراہا اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ریان العسری کا یہ اقدام صرف سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ **انسانیت، قربانی اور ایثار کی اعلیٰ مثال** ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل مسجد الحرام میں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی اعلیٰ تربیت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

فون کال کے اختتام پر وزیرِ داخلہ نے افسر کے لیے جلد صحت یابی کی دعا کی اور امید ظاہر کی کہ وہ دوبارہ مسجد الحرام کے زائرین کی خدمت کے لیے میدانِ عمل میں واپس آئیں گے۔

Masjid Al Haram Hero: Officer Who Saved Man From Suicide Identified

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔