Dubai Namaz Timings

بلوچستان آگ کی لپیٹ میں۔۔ 15 اہلکار شہید 18 شہری جاں بحق۔۔ خواتین اور بچے بھی نشانہ بن گئے

خونریز حملوں میں 15 اہلکار شہید، 18 شہری جاں بحق، پورے صوبے میں بیک وقت کارروائیاں، حالات کشیدہ

پاکستانی فوج کے مطابق بلوچستان کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران کم از کم 92 دہشت گرد مارے گئے۔ یہ کارروائیاں ہفتہ کے روز کی گئیں جب فورسز نے متعدد علاقوں میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔

فوج کے بیان کے مطابق ان آپریشنز کے دوران 15 سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے۔ دوسری جانب دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

یہ حملے ایک دن بعد کیے گئے جب پاکستانی فوج نے بلوچستان میں علیحدہ کارروائیوں کے دوران 41 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بلوچستان ایران اور افغانستان سے ملحقہ صوبہ ہے جہاں کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند شورش جاری ہے۔

کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے ہفتہ کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور دعویٰ کیا کہ اس نے پورے صوبے میں بیک وقت کارروائیاں کیں۔ تنظیم کے مطابق اس نے 84 سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا اور کارروائیاں 15 گھنٹے تک جاری رہیں۔

امارات لاٹری کا بڑا دھماکہ، 35ویں لکی ڈے ڈرا کے نتائج جاری، لاکھوں درہم کے خوش نصیب سامنے آ گئے

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے کسی بھی شہر یا حساس تنصیب پر قبضے کی کوشش ناکام بنا دی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات پاکستان سے باہر موجود دہشت گرد سرغنوں نے دیں، جو کارروائی کے دوران براہ راست رابطے میں تھے۔

حملے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں کیے گئے۔

امریکہ میں حکومت بند، سیاسی بحران عروج پر، کانگریس میں ہنگامی سرگرمیاں

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملوں کی مذمت کی اور سیکیورٹی فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق کوئٹہ اور بندرگاہی شہر گوادر سمیت کئی شہری علاقوں میں مسلح افراد نے حملے کیے، جس کے بعد فوج، پولیس اور انسداد دہشت گردی یونٹس نے کارروائیاں شروع کیں۔ بعض اضلاع میں اسپتالوں کو ہنگامی حالت میں رکھا گیا۔

گوادر میں دہشت گردوں نے مزدوروں کے کیمپ پر حملہ کیا جس میں 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں پانچ مرد، تین خواتین اور تین بچے شامل تھے۔ جوابی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے چھ دہشت گرد ہلاک کر دیے۔

نوشکی میں حالات اس وقت مزید سنگین ہو گئے جب دہشت گردوں نے ضلع کے اعلیٰ سول افسر کو اغوا کر لیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا ویڈیو میں خود کو دہشت گردوں کی تحویل میں بتایا، تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

کوئٹہ کے بعض علاقوں میں سڑکیں عارضی طور پر بند رہیں اور ایک حساس علاقے کے قریب دھماکے کی آواز بھی سنی گئی، تاہم بعد میں حکام نے صورتحال کو قابو میں ہونے کا اعلان کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گردوں کے بڑے حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 92 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ جھڑپوں میں 15 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ حملوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 18 شہری جان سے گئے۔ گوادر، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں صورتحال کشیدہ رہی اور کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہیں۔

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔