امارات میں ملازمت کے لیے پاکستانیوں کی بڑی تیاری، سافٹ اسکلز کی خصوصی تربیت کا اعلان
بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے پاکستان کا نیا عملی منصوبہ
پاکستانی حکومت نے امارات اور دیگر ممالک میں ملازمت کے خواہش مند شہریوں کے لیے سافٹ اسکلز اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل ترقی چوہدری سالک حسین نے امارات کے دورے کے دوران کہی۔
چوہدری سالک حسین کے مطابق حکومت معیاری تربیتی ادارے قائم کر رہی ہے، جہاں بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کو سافٹ اسکلز، رویے، اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ عالمی جاب مارکیٹ میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ روانگی سے قبل تربیت نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے کارکنان بیرونِ ملک کے کام کے ماحول اور تقاضوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکتے ہیں۔
وزیر کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، خاص طور پر امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں رہنے والے افراد، پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ پاکستانی مقیم ہیں، جن میں سے نصف سے زائد خلیجی ممالک میں رہتے ہیں، جبکہ 17 لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے امارات کو اپنا دوسرا گھر بنا رکھا ہے۔
کروڑ پتی بننے کا ایک اور سنہری موقع۔۔ ابوظہبی بگ ٹکٹ کا فروری میں 15 ملین درہم کا اعلان
امارات کے دورے کے دوران وزیر نے دبئی میں پاکستانی قونصل خانے کا بھی دورہ کیا، جہاں پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ، کمیونٹی ویلفیئر اور عوامی سہولیات کے نظام کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان کے قونصل جنرل دبئی، حسین محمد اور وزیر کے درمیان امارات میں مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور سہولیات سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
چوہدری سالک حسین نے بتایا کہ حکومت رواں سال 8 لاکھ پاکستانیوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کا انتظام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 60 ہزار زیادہ ہے۔ 2025 میں تقریباً 7 لاکھ 40 ہزار پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے تھے۔
سونے کی قیمتوں میں زبردست کریش، دبئی میں ایک ہفتے میں فی گرام 100 درہم سے زیادہ کمی
جنوری 2026 میں پاکستان اور امارات کے درمیان پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس معاہدے پر اتفاق ہوا تھا، جس کا آغاز پائلٹ بنیادوں پر کراچی سے کیا جائے گا۔
اپنے دورے کے دوران وزیر نے کویت کے ادارہ برائے افرادی قوت کی ڈائریکٹر جنرل سے بھی ملاقات کی، جہاں لیبر سیکٹر میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ دونوں ممالک نے باقاعدہ مشاورت اور روابط کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
—