اسلام آباد لرز اٹھا، مسجد میں خودکش دھماکہ، درجنوں نمازی شہید، سینکڑوں زخمی
جمعہ کی نماز کے دوران دارالحکومت میں خونریز حملہ، سکیورٹی حصار بھی ناکام
اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک شیعہ مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش حملہ ہوا، جس میں کم از کم 31 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تقریباً 169 افراد زخمی ہوگئے۔
حملے کے بعد مسجد کے اندر اور باہر خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مسجد کے فرش پر خون آلود لاشیں پڑی تھیں اور شیشے، ملبہ اور زخمی نمازی ہر طرف دکھائی دے رہے تھے۔
زخمیوں کی بڑی تعداد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ کئی زخمی مسجد کے باغیچے میں مدد کے منتظر رہے۔ انتظامیہ کے مطابق حملہ آور کو مسجد کے گیٹ پر روکا گیا تھا، جس کے بعد اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
صرف 48 گھنٹے باقی امارات لاٹری میں 30 کروڑ کا جیک پاٹ
دبئی میں دل دہلا دینے والا واقعہ، لاپتہ 6 سالہ دو بچیاں مل گئیں، والدین کی دعائیں قبول
اسلام آباد جیسے سخت سکیورٹی والے شہر میں اس نوعیت کے حملے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں، تاہم پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران شدت پسندی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ شیعہ برادری ماضی میں بھی فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنتی رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 169 تک پہنچ چکی ہے۔ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔
اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران شیعہ مسجد میں خودکش دھماکہ ہوا، جس میں 31 نمازی شہید اور 169 زخمی ہوگئے۔ حملہ آور کو گیٹ پر روکے جانے کے بعد دھماکہ ہوا۔ واقعے نے دارالحکومت کی سکیورٹی پر سوالات کھڑے کر دیے، جبکہ ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر تشویش مزید بڑھ گئی۔