انسٹاگرام پر تصویر شیئر کرنا پڑ گیا مہنگا ابوظہبی میں خاتون کو پوسٹ کرنے پر 50 ہزار درہم جرمانہ

ابوظہبی عدالت کا بڑا فیصلہ، بغیر اجازت تصویر پوسٹ کرنا پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی قرار

ابوظہبی میں ایک خاتون کو انسٹاگرام پر دوسری خاتون کی تصویر بغیر اجازت پوسٹ کرنے پر 50 ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ عمل پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے اور اس سے متاثرہ خاتون کو ذہنی اور سماجی نقصان پہنچا۔

ابوظہبی فیملی، سول اور ایڈمنسٹریٹو کیسز کورٹ کے مطابق ملزمہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے مدعیہ کی تصویر اس کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر شائع کی، جو قانون کے تحت ممنوع ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ خاتون نے عدالت میں 100 ہزار درہم ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ تصویر شیئر ہونے کی وجہ سے اسے ذہنی دباؤ، سماجی شرمندگی اور ساکھ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ سول کیس اس وقت سامنے آیا جب پہلے ایک فوجداری کیس میں بھی ملزمہ کو قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے اسے 50 ہزار درہم جرمانہ کیا، تصویر فوری طور پر حذف کرنے کا حکم دیا اور تین ماہ کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی بھی لگا دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بغیر اجازت کسی کی تصویر سوشل میڈیا پر شائع کرنا اس کی نجی زندگی اور عزت نفس کی خلاف ورزی ہے۔ اس عمل سے متاثرہ شخص کو ذہنی تکلیف اور سماجی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر مواد تیزی سے پھیل جاتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ایسے غیر مادی نقصان کی مالی قیمت مقرر کرنا آسان نہیں ہوتا، اس لیے ہر کیس کے حالات، نقصان کی شدت اور واقعے کے اثرات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔

آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ خاتون کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے مالی معاوضہ ضروری ہے اور 50 ہزار درہم اس کیس میں مناسب اور منصفانہ رقم ہے۔

ابوظہبی میں عدالت نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے ایک خاتون کو 50 ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اس نے دوسری خاتون کی تصویر اس کی اجازت کے بغیر انسٹاگرام پر پوسٹ کی تھی۔ عدالت کے مطابق یہ عمل پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے جس سے متاثرہ خاتون کو ذہنی اور سماجی نقصان پہنچا۔ ملزمہ کو پہلے فوجداری کیس میں بھی جرمانہ، تصویر حذف کرنے اور تین ماہ تک سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

2 Comments

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔