عراق میں یو اے ای قونصل خانے پر ڈرون حملہ، خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
امارات نے کردستان عراق میں اپنے قونصل خانے کو نشانہ بنانے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا

ابوظہبی: امارات نے عراق کے کردستان ریجن میں قائم اپنے قونصل جنرل کے دفتر پر ہونے والے ڈرون حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ ایک ہفتے کے دوران دوسرا حملہ ہے جس میں قونصل خانے کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام کے مطابق اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ قونصل خانے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سفارتی مشنز اور قونصل خانوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ خاص طور پر ویانا کنونشن کے تحت سفارتی عمارتوں اور عملے کو مکمل تحفظ فراہم کرنا لازم ہے۔
وزارت نے اس حملے کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
امارات نے عراق کی وفاقی حکومت اور کردستان ریجن کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
وزارت خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امارات ہر قسم کی دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور سفارتی مشنز، عمارتوں اور ان کے عملے کے تحفظ کو یقینی بنانا بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔
عراق کے کردستان ریجن میں قائم امارات کے قونصل خانے پر ڈرون حملہ کیا گیا جس میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی اور عمارت کو نقصان پہنچا۔ امارات نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور عراق و کردستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔