ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملوں کو موخر کر دیا، واشنگٹن اور تہران ’تشدّد ختم کرنے‘ کی بات چیت میں مصروف
واشنگٹن اور تہران نے ’تشدید ختم کرنے‘ کے لیے مثبت بات چیت کی، ایران کا خطرہ اور توانائی کی عالمی مارکیٹ پر اثرات

امریکا نے ایران کے پاور پلانٹس پر کسی بھی حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت بہت مثبت اور تعمیری رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ گفتگو ہفتے بھر جاری رہے گی اور اسی دوران فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایرانی توانائی اور پاور پلانٹس پر حملے موخر رکھیں۔
یہ اعلان اس کے بعد آیا ہے کہ ایران نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا ایران کے پاور نیٹ ورک کو نشانہ بناتا ہے تو وہ اسرائیل اور خطے کے توانائی اور پانی کی تنصیبات پر حملے کرے گا۔ ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھلی رہے گی سوائے ان کے جو ایران کے دشمن ہیں، اور وہ بین الاقوامی بحری تحفظ کے لیے تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس کشیدگی کی وجہ سے جہازوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے، جو عالمی تیل اور ایل این جی کی سپلائی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر کسی بھی حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے جبکہ امریکا اور ایران نے تشدد ختم کرنے کے لیے مثبت بات چیت کی ہے۔ ایران نے دھمکی دی تھی کہ اگر حملہ ہوا تو اسرائیل اور خطے کی توانائی تنصیبات نشانہ بنیں گی، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔