ایران سے جنگ بندی پر اسرائیلی دجالی حکومت امریکہ سے سخت ناراض اندرونی بے چینی سامنے آگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان نے اسرائیلی حکومت کو حیرت میں ڈال دیا ہے، جہاں حکام کو اس فیصلے کی آخری لمحات میں اطلاع ملی۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ حلقے ایران کے خلاف بڑے اقدامات کی تیاری کر رہے تھے، مگر اچانک جنگ بندی کے اعلان نے ان کے منصوبے ختم کر دیے اور صورتحال یکسر بدل گئی۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ہمیں اس فیصلے پر حیرت ہوئی کیونکہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ لگ رہا تھا اور ہمیں آخر میں بتایا گیا۔
اسرائیلی صحافی زیو روبنسٹین نے کہا کہ یہ حقیقت ماننی چاہیے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکانات کم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا سب کچھ دیکھ رہی ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ جدید جنگی طیارے بھی ہمیشہ فیصلہ کن نہیں ہوتے، خاص طور پر جب بات توانائی اور معیشت کی ہو۔
زیو روبنسٹین کے مطابق ایران ایک قدیم تہذیب ہے جو ماضی میں بھی قائم رہی اور مستقبل میں بھی برقرار رہے گی۔
ٹرمپ کے ایران سے جنگ بندی کے اعلان پر اسرائیل حیران رہ گیا، حکام کو آخری وقت میں اطلاع ملی جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکانات کم ہیں اور دنیا بدلتی صورتحال کو غور سے دیکھ رہی ہے۔