امارات کا بڑا مؤقف سامنے آ گیا — ایران سے حساب اور ضمانت کا مطالبہ!
جنگ بندی پر سوالات، آبنائے ہرمز کھولنے اور نقصانات کے ازالے کا سخت مطالبہ

United Arab Emirates نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے اعلان پر گہری نظر رکھتے ہوئے معاہدے کی تفصیلات پر وضاحت طلب کر لی ہے۔ امارات چاہتا ہے کہ Iran فوری طور پر تمام دشمنی ختم کرے اور Strait of Hormuz کو مکمل اور بلا شرط کھولے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
UAE Ministry of Foreign Affairs نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ 40 دنوں میں ایران کی جانب سے بغیر اشتعال کے حملے کیے گئے، جن میں ہزاروں بیلسٹک اور کروز میزائل اور ڈرون استعمال ہوئے، جس سے جانی و مالی نقصان ہوا۔
وزارت نے زور دیا کہ ایران کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ خطے میں امن کے لیے ایران کے جوہری پروگرام، میزائل، ڈرون، فوجی طاقت اور اس سے جڑے گروپس کے خطرات کو مکمل طور پر حل کرنا ضروری ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
امارات نے امریکہ ایران جنگ بندی معاہدے پر وضاحت مانگتے ہوئے ایران سے مکمل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے اور حملوں کے نقصانات کا حساب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
Iran کا ایک اہم وفد آج رات Islamabad پہنچنے والا ہے، جہاں United States کے ساتھ اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ یہ بات چیت Pakistan کی میزبانی میں ہو رہی ہے، جو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے بہت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
پاکستان کافی عرصے سے ان مذاکرات کی تیاری کر رہا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر JD Vance اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی قیادت کریں گے، جس سے ان بات چیت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر Reza Amiri Moghadam نے بتایا کہ ایران کا وفد 10 نکات پر مبنی سنجیدہ مذاکرات کے لیے آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باوجود Shehbaz Sharif نے اس وفد کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور حکومت نے شہر میں دو دن کی مقامی تعطیلات کا اعلان بھی کیا ہے۔
ایران کا وفد آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے جہاں پاکستان کی میزبانی میں امریکہ کے ساتھ اہم مذاکرات ہوں گے، جن کی قیادت امریکی نائب صدر کریں گے، جبکہ یہ بات چیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں