21 گھنٹے کی طویل بات چیت ناکام! امریکہ اور ایران کے درمیان بڑا ڈیڈلاک، جنگ بندی خطرے میں

اہم مذاکرات بے نتیجہ ختم، ایٹمی پروگرام پر اختلاف نے سب کچھ روک دیا

پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ 21 گھنٹے جاری رہنے والی اس اہم بات چیت کے بعد دونوں فریق کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس سے دو ہفتوں کی جنگ بندی بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں سے مکمل دستبرداری کا واضح وعدہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران ایسا کوئی مثبت اشارہ نہیں ملا جس سے پیش رفت ممکن ہو سکتی۔

ماہرین کے مطابق اس ناکامی سے خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ اب تمام نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا صورتحال مزید خراب ہوتی ہے۔

پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ ایٹمی پروگرام پر اختلافات کے باعث کوئی معاہدہ نہ ہو سکا، جس سے جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر نے کہا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے دوران تہران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ان کے مطابق بات چیت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکی۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے باہمی اعتماد بنیادی شرط ہوتی ہے، لیکن حالیہ مذاکرات میں امریکہ اس حوالے سے مؤثر کردار ادا نہیں کر سکا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعتماد کی کمی ہی مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ بن رہی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ مذاکرات میں تہران کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔ ماہرین کے مطابق یہی عدم اعتماد امن معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔