ایران پر بڑی جنگی دھمکی اور امید کا دعویٰ! ٹرمپ کا کہنا، تہران مذاکرات پر واپس آئے گا
سیز فائر بحران برقرار، امریکی صدر نے سخت وارننگ دیتے ہوئے سفارتی حل کی پیش گوئی کر دی

Donald Trump نے کہا ہے کہ United States اور Iran کے درمیان کشیدگی ابھی بھی انتہائی حساس مرحلے میں ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ تہران جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
امریکی صدر کے مطابق موجودہ سیز فائر صورتحال بہت نازک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو حالات خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ایران دوبارہ مذاکرات میں شامل ہوگا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ Strait of Hormuz اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات بدستور تنازع کا مرکز ہیں۔
ماہرین کے مطابق خطے میں صورتحال غیر مستحکم ہے اور کسی بھی وقت سفارتی یا عسکری تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا، تاہم اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ موجودہ سیز فائر صورتحال نازک ہے جبکہ آبنائے ہرمز اور ایران کا جوہری پروگرام بدستور بڑے تنازع کا سبب ہیں۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
Donald Trump نے خبردار کیا ہے کہ اگر China نے ایران کو فوجی مدد فراہم کی تو امریکا چینی مصنوعات پر 50 فیصد تک بھاری ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
امریکی صدر نے یہ بیان فاکس نیوز کے پروگرام میں دیا، جہاں انہوں نے کہا کہ اگر بیجنگ کو ایران کی فوجی معاونت کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اسے “انتہائی بڑا” تجارتی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیرف اتنا زیادہ ہوگا کہ اسے “شاندار اور بھاری معاشی سزا” قرار دیا جا سکتا ہے، جس کا مقصد چین کو خطے میں کسی بھی فوجی مداخلت سے روکنا ہے۔
United States اور چین کے درمیان پہلے ہی تجارتی اور سیاسی کشیدگی جاری ہے، جبکہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ آئندہ ماہ بیجنگ کے دورے پر بھی جانے والے ہیں اور ان کی ملاقات چینی صدر Xi Jinping سے متوقع ہے۔
یہ ملاقات پہلے ہی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث مؤخر کی جا چکی ہے، اور اب تازہ دھمکی نے عالمی تجارتی ماحول کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ایران کو فوجی مدد فراہم کی تو امریکا چینی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیکس لگا دے گا۔ انہوں نے یہ بیان ایک ٹی وی انٹرویو میں دیا۔ امریکا اور چین کے درمیان پہلے ہی کشیدگی موجود ہے جبکہ آئندہ ملاقات بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں