اسلام آباد مذاکرات آخری لمحے پر ٹوٹ گئے! ایران کا انکشاف، امریکہ سے معاہدہ بالکل قریب تھا
21 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود معاہدہ نہ ہو سکا، ایران نے خیرسگالی اور سنجیدہ مذاکرات کا دعویٰ کیا

Iran نے دعویٰ کیا ہے کہ United States کے ساتھ Islamabad میں ہونے والے مذاکرات تقریباً معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم آخری لمحے میں بات چیت ناکام ہو گئی۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
فرانسیسی خبر رساں ادارے Agence France-Presse کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ تہران نے ان اعلیٰ سطحی مذاکرات میں “نیک نیتی” کے ساتھ شرکت کی اور فریقین ایک معاہدے کے انتہائی قریب تھے۔
یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے اور ان کا مقصد کمزور جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا تھا، تاہم کسی حتمی معاہدے کے بغیر یہ بات چیت ختم ہو گئی۔
ایران کے مطابق مذاکرات کے دوران مثبت پیش رفت ہوئی مگر اختلافات آخری مراحل میں حل نہ ہو سکے، جس کے باعث یہ اہم موقع ضائع ہو گیا۔
اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے جو معاہدے کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ ایران کے مطابق وہ نیک نیتی کے ساتھ بات چیت میں شامل ہوا، تاہم آخری لمحات میں اختلافات کے باعث کوئی معاہدہ نہ ہو سکا اور مذاکرات بغیر نتیجے کے ختم ہو گئے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
Vladimir Putin نے اپنے ایرانی ہم منصب Masoud Pezeshkian کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
کریملن کے مطابق روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو خطے میں جاری تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے تاکہ ایک دیرپا اور منصفانہ امن قائم کیا جا سکے۔
Kremlin کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پیوٹن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس ہر ممکن سفارتی کوششوں کی حمایت کرے گا اور تنازع کے حل کے لیے ثالثی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر مختلف طاقتیں خطے میں استحکام کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔
روس کا یہ بیان اس کے اس موقف کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ فوجی حل کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا حامی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ کریملن کے مطابق روس خطے میں جاری تنازع کے سیاسی حل اور دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں میں مدد دینے کو تیار ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں