روس کا بڑا امن اقدام! پیوٹن نے ایران کے ساتھ ثالثی کی پیشکش کر دی
مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور دیرپا امن کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی آمادگی کا اظہار

Vladimir Putin نے اپنے ایرانی ہم منصب Masoud Pezeshkian کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
کریملن کے مطابق روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو خطے میں جاری تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے تاکہ ایک دیرپا اور منصفانہ امن قائم کیا جا سکے۔
Kremlin کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پیوٹن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس ہر ممکن سفارتی کوششوں کی حمایت کرے گا اور تنازع کے حل کے لیے ثالثی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر مختلف طاقتیں خطے میں استحکام کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔
روس کا یہ بیان اس کے اس موقف کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ فوجی حل کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا حامی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ کریملن کے مطابق روس خطے میں جاری تنازع کے سیاسی حل اور دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں میں مدد دینے کو تیار ہے۔