دبئی، شارجہ اور عجمان کے درمیان ٹریفک کا بڑا حل آ گیا! اربوں درہم کے منصوبے سے روزانہ سفر بدلنے والا ہے

نیا ہائی وے اور تیز رفتار بس نظام متعارف، لاکھوں مسافروں کے لیے سفر آسان بنانے کا بڑا منصوبہ

امارات میں دبئی، شارجہ اور عجمان کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ حکام نے ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور سفر کو تیز بنانے کے لیے ایک جامع ٹرانسپورٹ منصوبے کا جائزہ لیا ہے۔

یہ منصوبہ امارات کے انفراسٹرکچر اور ہاؤسنگ کونسل کے پہلے اجلاس 2026 میں زیر غور آیا جس کی صدارت وزیر توانائی و انفراسٹرکچر سہیل محمد المزروعی نے کی۔ اجلاس میں دبئی، شارجہ اور عجمان کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ 6 ارب درہم کے وفاقی ہائی وے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔

حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ملک کے مصروف ترین سفری راستوں میں سے ایک یعنی دبئی، شارجہ اور عجمان کے درمیان سفر کو زیادہ منظم اور تیز بنانا ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت 10 اہم ٹرانسپورٹ روٹس کا نیٹ ورک بنایا جائے گا جنہیں بس ریپڈ ٹرانزٹ یعنی BRT سسٹم کی مدد حاصل ہوگی۔ اس سسٹم میں بسوں کے لیے مخصوص لینز ہوں گی جس سے بسیں بغیر رکاوٹ تیزی سے سفر کر سکیں گی۔

BRT دراصل ایک جدید بس سسٹم ہے جو میٹرو جیسی سہولت فراہم کرتا ہے لیکن اس کی لاگت کم ہوتی ہے اور اسے زیادہ لچکدار انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔

یہ بس روٹس میٹرو اسٹیشنز اور بڑے شہری مراکز سے براہ راست منسلک ہوں گے تاکہ مسافروں کو آسانی سے مختلف شہروں کے درمیان سفر کی سہولت مل سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد نجی گاڑیوں پر انحصار کم کرنا، سفر کا وقت گھٹانا اور گنجان آبادی والے علاقوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا ہے۔

اس کے علاوہ عجمان کو تیسرے اور چوتھے وفاقی کوریڈور سے بہتر طور پر جوڑنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے تاکہ متبادل راستے فراہم کیے جا سکیں اور موجودہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہو سکے۔

امارات میں دبئی، شارجہ اور عجمان کے درمیان ٹریفک کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے بڑا ٹرانسپورٹ منصوبہ سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 10 نئے روٹس، بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم اور 6 ارب درہم کے ہائی وے منصوبے شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے سفر کا وقت کم ہوگا، نجی گاڑیوں پر انحصار گھٹے گا اور شہروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔