ایران کے گرد سمندری گھیرا تنگ! امریکہ کے بڑے فیصلے پر اسرائیل کی کھلی حمایت، خطے میں نئی کشیدگی
امریکی صدر کے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل نے مکمل تعاون کا اعلان کر دیا

اسرائیل کے وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی بحری ناکہ بندی کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان قریبی رابطہ اور مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ ایران نے پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کے قواعد کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد امریکی صدر نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اس سخت موقف کی حمایت کرتا ہے اور اس معاملے میں امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
امریکی فوج کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ایران کی بندرگاہوں کے لیے آنے یا وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں پر ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔
فوجی حکام کے مطابق یہ ناکہ بندی پیر کے روز اماراتی وقت کے مطابق شام 6 بجے سے نافذ ہوگی۔ یہ اقدام ایران کی تمام بڑی بندرگاہوں پر لاگو ہوگا جو اہم آبی گزرگاہ کے دونوں اطراف واقع ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور عالمی تجارت، خاص طور پر توانائی کی ترسیل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
اسرائیل نے ایران کے خلاف امریکہ کی بحری ناکہ بندی کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیر کو شام 6 بجے سے ایران کی تمام بندرگاہوں کے لیے بحری ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے خطے میں کشیدگی بڑھنے اور عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔