ابو ظہبی میں پارکنگ کا نیا بڑا قانون! مصفح میں اچانک فیس نافذ — گاڑی کھڑی کرنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھیں

20 اپریل سے مصفح کے مزید علاقوں میں پیڈ پارکنگ کا نظام شروع، فی گھنٹہ فیس اور ادائیگی کے نئے طریقے متعارف

ابو ظہبی میں پارکنگ کے نظام کو مزید منظم بنانے کے لیے مصفح کے مختلف علاقوں میں نئی پیڈ پارکنگ زونز متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ نیا نظام 20 اپریل سے نافذ العمل ہوگا۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

اس نظام کے تحت عام پارکنگ کی فیس 2 درہم فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔ شہری اور وزیٹرز Darb اور TAMM ایپس، ایس ایم ایس سروس اور پارکنگ مشینوں کے ذریعے آسانی سے ادائیگی کر سکیں گے۔

مصفح ابو ظہبی کا ایک اہم صنعتی اور تجارتی مرکز ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں کارکنان اور وزیٹرز آتے ہیں۔ اس وجہ سے علاقے میں ٹریفک کا دباؤ زیادہ رہتا ہے اور پارکنگ کی جگہ تلاش کرنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔

حکام کے مطابق پارکنگ کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور بے ترتیب گاڑیوں کی پارکنگ کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی تھی۔ نئے پیڈ پارکنگ زونز کا مقصد پارکنگ کو منظم کرنا، ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کو بہتر بنانا ہے۔

اس اقدام سے کاروباری سرگرمیوں کو بھی سہولت ملے گی کیونکہ وزیٹرز اور ملازمین کے لیے پارکنگ تلاش کرنا آسان ہو جائے گا جبکہ سڑکوں پر بے ترتیب پارکنگ بھی کم ہوگی۔

یاد رہے کہ جنوری میں Q Mobility نے مصفح کے 5 سیکٹرز میں پیڈ پارکنگ کا نظام متعارف کروایا تھا جس میں تقریباً 4,680 پارکنگ اسپیس شامل تھیں۔ اس کے بعد مارچ میں محمد بن زاید سٹی میں چار ملٹی اسٹوری پارکنگ عمارتیں کھولی گئیں جن میں 1,446 گاڑیوں کی گنجائش ہے۔

مزید برآں، 6 اپریل سے ابو ظہبی کے مختلف کمرشل علاقوں میں 10,424 پارکنگ اسپیس پر بھی پیڈ پارکنگ نظام نافذ کیا گیا۔ ان میں سے کچھ پارکنگ اسپیس روایتی طریقے کے برعکس رات 9 بجے کے بعد بھی رہائشیوں کے لیے مخصوص نہیں ہوں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ نئے پارکنگ نظام سے بے ترتیب پارکنگ کے مسائل کم ہوں گے، ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور مصفح میں کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کو مزید سہولت ملے گی۔

ابو ظہبی نے مصفح میں مزید پیڈ پارکنگ زونز متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے جو 20 اپریل سے نافذ ہوں گے۔ اس نظام کے تحت عام پارکنگ کی فیس 2 درہم فی گھنٹہ ہوگی اور ادائیگی Darb، TAMM ایپس، ایس ایم ایس اور مشینوں کے ذریعے کی جا سکے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا، پارکنگ کو منظم بنانا اور صنعتی علاقے میں گاڑیوں کی نقل و حرکت کو بہتر کرنا ہے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

ابو ظہبی اور دبئی کے درمیان سفر کرنے والے ڈرائیورز نے E11 ہائی وے پر نئے Darb ٹول گیٹس کی تنصیب دیکھنے کے بعد اسمارٹ ٹول سسٹم کی ممکنہ توسیع کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

موٹرسٹوں کے مطابق دو نئے اسٹرکچر E11 ہائی وے پر نظر آئے ہیں۔ ان میں سے ایک ابو ظہبی کی جانب جانے والی سمت میں دبئی–ابو ظہبی سرحد کے قریب غنطوط کے بعد نصب کیا گیا ہے جبکہ دوسرا دبئی کی طرف جانے والی سمت میں ایگزٹ 403 سے پہلے دیکھا گیا ہے۔

اسی طرح القرم کے علاقے میں بھی دونوں سمتوں میں Darb ٹول گیٹس نصب کیے گئے ہیں جنہیں ڈرائیورز نے حالیہ دنوں میں واضح طور پر دیکھا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابو ظہبی میں موجودہ Darb ٹول پوائنٹس زیادہ تر جزیرے میں داخل ہونے والے پلوں پر واقع ہیں جن میں شیخ زاید برج، شیخ خلیفہ برج، المقطع برج اور مصفح برج شامل ہیں۔

تاہم نئے نصب کیے گئے ٹول گیٹس براہ راست ہائی وے پر لگائے گئے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر ٹول سسٹم کو شہر کے روایتی پلوں سے آگے بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔

ان نئے گیٹس پر واضح طور پر “Darb Ghantout Toll Gate” اور “Darb Al Qurm Toll Gate” کے نام درج ہیں، تاہم ابھی تک یہ فعال نہیں کیے گئے۔

حکام کی جانب سے ان نئے ٹول گیٹس کے بارے میں باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ ڈرائیورز یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ آیا اسمارٹ ٹول سسٹم میں مزید توسیع ہونے جا رہی ہے یا نہیں۔

ابو ظہبی اور دبئی کے درمیان E11 ہائی وے پر نئے Darb ٹول گیٹس دیکھے گئے ہیں جس کے بعد ڈرائیورز میں ٹول سسٹم کی توسیع کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ غنطوط اور القرم کے قریب نصب یہ گیٹس ابھی تک فعال نہیں کیے گئے لیکن ان کی موجودگی اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ مستقبل میں ٹول نظام کو مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔