امریکا و ایران کے وفود مذاکرات کیلئے چند روز میں دوبارہ اسلام آباد آسکتے ہیں: رائٹرز
امن مذاکرات کے نئے دور کی تیاریاں، پاکستان ایک بار پھر اہم ثالثی کردار میں

امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے تحت مذاکرات کا ایک اور دور جلد اسلام آباد میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک کے وفود رواں ہفتے دوبارہ پاکستان آ سکتے ہیں۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم ملاقاتیں جمعرات کو اسلام آباد میں ہو سکتی ہیں۔
پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بھی اشارہ دیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور اس ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں ہو سکتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کردار ادا کرنے پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا اگلا دور جلد اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور امریکی نائب صدر نے اس سفارتی کوشش کو سراہا ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کے بارے میں فی الحال نہیں سوچ رہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنگ بندی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے، تاہم اگر کوئی معاہدہ ہو جائے تو یہ بہتر ہوگا تاکہ حالات کو سنبھالا جا سکے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی بڑھانے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ صورتحال کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔ انہوں نے معاہدے کو بہتر راستہ قرار دیا، لیکن کشیدگی بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں