امریکہ کا اہم پیغام لے کر آرمی چیف عاصم منیر تہران پہنچ گئے، خطے میں بڑی پیش رفت متوقع

امریکہ-ایران مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان متحرک، اہم وفد ایران میں سرگرم

Asim Munir کی قیادت میں پاکستانی وفد تہران پہنچ گیا ہے، جہاں ان کا استقبال ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات حال ہی میں ناکام ہوئے ہیں۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

ایرانی حکام کے مطابق یہ ملاقاتیں خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں، جبکہ پاکستان اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستانی وفد میں وزیر داخلہ Mohsin Naqvi بھی شامل ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو جاری رکھنے اور امن کی راہ تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کی قیادت میں وفد تہران پہنچ گیا ہے، جہاں ایران کے ساتھ اہم مذاکرات جاری ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

امارات کی وزارت خارجہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، جس کا اعلان Donald Trump نے کیا۔ وزارت نے اسے خطے میں استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ قدم خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے ماحول کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر مؤثر تعاون کو جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

امارات نے لبنان کی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں اسلحہ صرف ریاست کے کنٹرول میں ہونا چاہیے اور دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

امارات نے لبنان کی خودمختاری، سالمیت اور عوام کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

امارات نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے اہم قدم کہا ہے۔ وزارت خارجہ نے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور لبنان کی خودمختاری اور استحکام کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔