دبئی میں ایمان کی نئی لہر! صرف تین ماہ میں 2700 سے زائد افراد نے اسلام قبول کر لیا

**91 مختلف ممالک کے افراد کا فیصلہ — اماراتی معاشرتی اقدار نے دنیا بھر کو متاثر کر دیا**

دبئی میں 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران 91 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 2,700 سے زائد افراد نے اسلام قبول کیا۔ یہ اعلان اسلامی امور و فلاحی سرگرمیوں کے ادارے Islamic Affairs and Charitable Activities Department نے کیا، جس کے مطابق امارات میں اسلامی اقدار کا روزمرہ زندگی میں نمایاں ہونا لوگوں کے لیے تجسس اور بہتر سمجھ کا باعث بنتا ہے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

اسی دوران Mohammed bin Rashid Centre for Islamic Culture نے تقریباً 390 کورسز، لیکچرز اور سیمینارز کا انعقاد کیا، جن سے تقریباً 1,400 افراد نے فائدہ اٹھایا۔ ادارے کے مطابق یہ سرگرمیاں معاشرتی ہم آہنگی، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

دبئی میں 2026 کے پہلے تین ماہ میں 2700 سے زائد افراد نے اسلام قبول کیا، جبکہ مختلف تعلیمی و ثقافتی پروگرامز کے ذریعے ہزاروں افراد کو اسلامی تعلیمات اور اقدار سے روشناس کرایا گیا، جو معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دے رہے ہیں۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں :

Qatar Airways نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دوحہ سے امارات کے اہم شہروں کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ اب مسافر روزانہ کی بنیاد پر دبئی اور شارجہ کے لیے براہِ راست سفر کر سکیں گے، جس سے سفری سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

ایئرلائن کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق کے لیے بھی روزانہ پروازیں یکم مئی سے شروع کی جائیں گی، جس سے خطے میں فضائی رابطے مزید مضبوط ہوں گے۔

یہ اقدام خطے میں سفر، تجارت اور عوامی روابط کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مسافروں کو زیادہ آسانی اور بہتر کنیکٹیویٹی حاصل ہوگی۔

قطر ایئرویز نے دوحہ سے دبئی اور شارجہ کے لیے روزانہ پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں جبکہ دمشق کے لیے سروس یکم مئی سے بحال ہوگی، جس سے خطے میں سفری سہولت بہتر ہوگی۔

27 Comments

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔