امریکہ اور ایران کشیدگی کے اثرات، دبئی میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی

امریکہ کی جانب سے ایران کے امن منصوبے کے جواب کو مسترد کیے جانے کے بعد دبئی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جہاں فی گرام سونا 5 درہم سے زائد سستا ہو گیا۔

پیر کی صبح دبئی میں 24 قیراط سونے کی قیمت 563 درہم فی گرام تک گر گئی، جو جمعہ کے اختتام پر 568.25 درہم تھی۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ بندی مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال نے عالمی مارکیٹس پر فوری اثر ڈالا۔

30 کروڑ کا جیک پاٹ
جلد سے جلد اپنی ٹیم بنائیں اور شامل ہوجائيں

دیگر اقسام میں 22 قیراط سونا 521.25 درہم، 21 قیراط 499.75 درہم، 18 قیراط 428.25 درہم جبکہ 14 قیراط سونا 334 درہم فی گرام پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی عالمی سونے کی قیمتوں پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہے۔

🎥
🚀 مزید کمائی چاہتے ہیں؟
ایپ میں ویڈیو دیکھیں اور 4 گنا تک زیادہ پوائنٹس حاصل کریں!
🎁

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد دبئی میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 24 قیراط سونا 5 درہم سے زائد سستا ہو گیا جبکہ عالمی مارکیٹس میں بھی بے چینی دیکھی گئی۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

رپورٹس کے مطابق بنوں کے علاقے فتح خیل میں کار بم دھماکے اور مسلح حملے میں کم از کم 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہو گئے۔ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب خیبرپختونخوا میں شدت پسند حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

30 کروڑ کا جیک پاٹ
جلد سے جلد اپنی ٹیم بنائیں اور شامل ہوجائيں

کویت کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت، عوام اور شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ وزارت نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔

🎥
🚀 مزید کمائی چاہتے ہیں؟
ایپ میں ویڈیو دیکھیں اور 4 گنا تک زیادہ پوائنٹس حاصل کریں!
🎁

کویت نے بنوں میں پولیس چوکی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ کویتی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اپنے مؤقف کو دہرایا۔

25 Comments

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔