کویت نے پاکستان میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کر دی، 15 پولیس اہلکار شہید

کویت نے شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر ہونے والے خونریز دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بنوں کے علاقے فتح خیل میں کار بم دھماکے اور مسلح حملے میں کم از کم 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہو گئے۔ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب خیبرپختونخوا میں شدت پسند حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

30 کروڑ کا جیک پاٹ
جلد سے جلد اپنی ٹیم بنائیں اور شامل ہوجائيں

کویت کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت، عوام اور شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ وزارت نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔

🎥
🚀 مزید کمائی چاہتے ہیں؟
ایپ میں ویڈیو دیکھیں اور 4 گنا تک زیادہ پوائنٹس حاصل کریں!
🎁

کویت نے بنوں میں پولیس چوکی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ کویتی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اپنے مؤقف کو دہرایا۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

بھارتی وزارتِ خارجہ کے آفیشل فیکٹ چیک اکاؤنٹ MEA FactCheck نے واضح کیا کہ ایسی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں کہ بھارت اور یو اے ای فجیرہ پورٹ کے ذریعے بھارتی ورکرز کے انخلا کے لیے کسی معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔

30 کروڑ کا جیک پاٹ
جلد سے جلد اپنی ٹیم بنائیں اور شامل ہوجائيں

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا: “کسی بھی قسم کے انخلا کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔” حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی بے بنیاد اور جھوٹی خبروں سے ہوشیار رہیں۔

🎥
🚀 مزید کمائی چاہتے ہیں؟
ایپ میں ویڈیو دیکھیں اور 4 گنا تک زیادہ پوائنٹس حاصل کریں!
🎁

بھارت نے یو اے ای میں بھارتی شہریوں کے انخلا سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دے دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق فجیرہ پورٹ کے ذریعے کسی انخلا کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہو رہی اور عوام کو فیک نیوز سے محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

27 Comments

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔