یو اے ای میں مقیم بھارتیوں کے انخلا کی خبریں جعلی قرار، بھارت کی باضابطہ وضاحت

بھارت نے یو اے ای میں مقیم بھارتی شہریوں کے ممکنہ انخلا سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مکمل طور پر جعلی قرار دے دیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے آفیشل فیکٹ چیک اکاؤنٹ MEA FactCheck نے واضح کیا کہ ایسی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں کہ بھارت اور یو اے ای فجیرہ پورٹ کے ذریعے بھارتی ورکرز کے انخلا کے لیے کسی معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔

30 کروڑ کا جیک پاٹ
جلد سے جلد اپنی ٹیم بنائیں اور شامل ہوجائيں

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا: “کسی بھی قسم کے انخلا کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔” حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی بے بنیاد اور جھوٹی خبروں سے ہوشیار رہیں۔

🎥
🚀 مزید کمائی چاہتے ہیں؟
ایپ میں ویڈیو دیکھیں اور 4 گنا تک زیادہ پوائنٹس حاصل کریں!
🎁

بھارت نے یو اے ای میں بھارتی شہریوں کے انخلا سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دے دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق فجیرہ پورٹ کے ذریعے کسی انخلا کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہو رہی اور عوام کو فیک نیوز سے محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

بوظہبی سول ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق نئے اسمارٹ کیمرے ایمرجنسی گاڑیوں میں نصب کر دیے گئے ہیں، جو ٹریفک کی صورتحال کو براہِ راست کنٹرول روم تک پہنچاتے ہیں اور ان ڈرائیورز کی ویڈیو ریکارڈ کرتے ہیں جو ایمرجنسی گاڑیوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

30 کروڑ کا جیک پاٹ
جلد سے جلد اپنی ٹیم بنائیں اور شامل ہوجائيں

حکام کے مطابق یہ نظام آپریشن رومز سے براہِ راست منسلک ہے، جس سے ٹریفک جام کی نشاندہی، متبادل راستوں کی نگرانی اور فوری رسپانس میں مدد ملے گی۔ قوانین کے مطابق ایمرجنسی گاڑی کو راستہ نہ دینے والوں پر 3 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

🎥
🚀 مزید کمائی چاہتے ہیں؟
ایپ میں ویڈیو دیکھیں اور 4 گنا تک زیادہ پوائنٹس حاصل کریں!
🎁

ابوظہبی میں ایمرجنسی گاڑیوں پر اسمارٹ کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں جو راستہ نہ دینے والے ڈرائیورز کو ریکارڈ کریں گے۔ حکام کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں پر 3 ہزار درہم جرمانہ ہوگا جبکہ اس اقدام کا مقصد ایمرجنسی رسپانس کو مزید تیز بنانا ہے۔

23 Comments

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔