دبئی میں اب پارک اور بیچ پر بھی ڈرون سے کھانا ڈیلیور ہوگا، نئی اسمارٹ سروس کا اعلان

دبئی میں جلد شہری اور سیاح پارکس، بیچز اور عوامی مقامات پر بیٹھے بیٹھے ڈرون کے ذریعے کھانا اور دیگر اشیا منگوا سکیں گے، کیونکہ دبئی میونسپلٹی نے Keeta Drone کے ساتھ نئی شراکت داری کا اعلان کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق اسمارٹ ڈرون ڈیلیوری سروس کے ابتدائی ٹرائلز رواں سال منتخب پارکس اور بیچز پر شروع کیے جائیں گے، جس کے بعد مرحلہ وار اسے پورے شہر میں وسعت دی جائے گی۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

اس منصوبے کے تحت جدید فضائی ڈیلیوری روٹس تیار کیے جائیں گے تاکہ عوامی مقامات پر موجود افراد تک کھانا، مشروبات اور دیگر اشیا تیزی سے پہنچائی جا سکیں۔ دبئی میونسپلٹی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دبئی کو دنیا کے سب سے جدید، اسمارٹ اور رہنے کے قابل شہروں میں شامل کرنے کے وژن کا حصہ ہے۔

دبئی میں جلد پارکس اور بیچز پر بیٹھے افراد کو ڈرون کے ذریعے کھانا اور دیگر اشیا ڈیلیور کی جائیں گی۔ دبئی میونسپلٹی اور Keeta Drone کے اشتراک سے اسمارٹ ڈیلیوری سروس کے ابتدائی ٹرائلز رواں سال شروع ہوں گے۔

دبئی میں 1 لاکھ 67 ہزار سے زائد گولڈن ویزے خاندانوں کو جاری، بڑی پیش رفت سامنے آ گئی

دبئی نے ایک بار پھر دنیا بھر کے خاندانوں، سرمایہ کاروں اور ماہر افراد کے لیے اپنی کشش ثابت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب تک 1 لاکھ 67 ہزار سے زائد گولڈن ویزے خاندانوں کو جاری کیے جا چکے ہیں۔

جی ڈی آر ایف اے دبئی کے مطابق 2021 سے 2026 کی پہلی سہ ماہی تک جاری اعداد و شمار دبئی میں طویل مدتی رہائش کے بڑھتے رجحان اور عالمی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خاندانوں کے استحکام، بہتر معیارِ زندگی اور محفوظ مستقبل کے وژن کا حصہ ہے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

اعداد و شمار کے مطابق خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے خاندانوں کو 167,124، رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے خاندانوں کو 100,286 جبکہ سائنسدانوں اور ماہرین کے خاندانوں کو 70,247 گولڈن ویزے جاری کیے گئے۔ حکام نے کہا کہ دبئی مسلسل ایسا جدید اور ڈیجیٹل نظام بنا رہا ہے جہاں لوگ نہ صرف کام بلکہ اپنے خاندان کے ساتھ مستقل اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں :

یو اے ای میں شدید گرمی کے آغاز کے ساتھ شارجہ حکام نے شہریوں کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کرتے ہوئے بچوں، گاڑیوں، بجلی اور آگ سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

شارجہ سول ڈیفنس کے مطابق گرمیوں میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھنے کے باعث گاڑیوں میں بچوں یا آتش گیر مواد چھوڑنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ حکام نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ بچوں کو کبھی بھی گاڑیوں یا سوئمنگ پول کے قریب تنہا نہ چھوڑا جائے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ گاڑیوں کے اے سی اور کولنگ سسٹمز کی باقاعدہ مینٹیننس کروائیں، بجلی کے سرکٹس پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کریں، گیس سلنڈرز کو ٹھنڈی اور ہوادار جگہ پر رکھیں، اور فائر الارم و فائر فائٹنگ سسٹمز کو فعال رکھیں۔ ماہرین کے مطابق El Niño موسمی نظام کی واپسی کے باعث رواں سال خطے میں شدید گرمی اور نمی بڑھنے کا امکان ہے۔

شارجہ حکام نے گرمیوں کے موسم کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کرتے ہوئے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بچوں کو گاڑیوں میں تنہا نہ چھوڑیں، گاڑیوں کی مینٹیننس کروائیں اور شدید گرمی میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

شارجہ حکام نے گرمیوں کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کر دیں، بچوں اور گاڑیوں سے متعلق خصوصی وارننگ

یو اے ای میں شدید گرمی کے آغاز کے ساتھ شارجہ حکام نے شہریوں کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کرتے ہوئے بچوں، گاڑیوں، بجلی اور آگ سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

شارجہ سول ڈیفنس کے مطابق گرمیوں میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھنے کے باعث گاڑیوں میں بچوں یا آتش گیر مواد چھوڑنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ حکام نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ بچوں کو کبھی بھی گاڑیوں یا سوئمنگ پول کے قریب تنہا نہ چھوڑا جائے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ گاڑیوں کے اے سی اور کولنگ سسٹمز کی باقاعدہ مینٹیننس کروائیں، بجلی کے سرکٹس پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کریں، گیس سلنڈرز کو ٹھنڈی اور ہوادار جگہ پر رکھیں، اور فائر الارم و فائر فائٹنگ سسٹمز کو فعال رکھیں۔ ماہرین کے مطابق El Niño موسمی نظام کی واپسی کے باعث رواں سال خطے میں شدید گرمی اور نمی بڑھنے کا امکان ہے۔

7 Comments

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔