آبنائے ہرمز پر نیا تنازع، ایران نے ٹول نہیں بلکہ "فیس” لینے کا عندیہ دے دیا

دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ بحری جہازوں سے "ٹول ٹیکس” نہیں بلکہ مخصوص خدمات کے عوض فیس وصول کر سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز مستقل طور پر "ٹول فری” رہے گی۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
تاہم ایک روز بعد ایران نے اشارہ دیا کہ اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو اب بھی بعض خدمات کے عوض ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے، جس نے ایک نئے قانونی اور سفارتی مباحثے کو جنم دے دیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق صرف "ٹول” کو "فیس” کا نام دینے سے اس کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو جاتی۔ بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت ایسے اہم آبی راستوں میں آزادانہ نقل و حرکت کے اصولوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کسی بھی قسم کی پابندی یا اضافی چارجز عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے خدمات کے نام پر فیس عائد کی جاتی ہے تو اس پر بین الاقوامی سطح پر قانونی بحث چھڑ سکتی ہے، جبکہ شپنگ کمپنیوں اور توانائی کے شعبے کیلئے نئے اخراجات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول نہیں بلکہ خدمات کے عوض فیس لی جا سکتی ہے، جس پر عالمی سطح پر قانونی اور سفارتی بحث شروع ہو گئی ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں :
امریکا-ایران معاہدے پر نیا تنازع، ایران نے اسرائیل کے لبنان سے انخلا کی شرط رکھ دی
ایران نے ممکنہ امن معاہدے کیلئے اسرائیلی افواج کے لبنان سے انخلا کی شرط رکھ دی ہے، جبکہ اسرائیل نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں فریقوں کی مختلف تشریحات مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اختلافات برقرار رہے تو خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں :
امریکا اور ایران کے درمیان بڑی پیش رفت، ٹرمپ کی یو اے ای صدر سے ملاقات، جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ گئیں
جی 7 اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی جبکہ امن فریم ورک کی خبریں سامنے آئیں۔
اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
مبصرین کے مطابق کامیاب معاہدہ خطے میں استحکام پیدا کر سکتا ہے۔