یو اے ای کمپنی کی ایک غلطی پڑ گئی مہنگی، عدالت نے لاکھوں درہم ادا کرنے کا حکم سنا دیا

ابوظہبی کی اعلیٰ عدالت نے ایک کمپنی کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی سابق ملازمہ کو **875,761 درہم** سے زائد بقایا تنخواہیں اور دیگر واجبات ادا کرے، کیونکہ کمپنی نے تنخواہ بند تو کر دی تھی لیکن ملازمت باضابطہ طور پر ختم نہیں کی تھی۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملازمہ نے 2025 میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی نے اپریل 2025 سے اس کی ماہانہ تنخواہ دینا بند کر دی، مگر اسے نہ کوئی برطرفی کا خط دیا گیا اور نہ ہی ملازمت ختم ہونے کی کوئی باضابطہ اطلاع۔
عدالت کی جانب سے مقرر کیے گئے ماہر نے تحقیقات کے بعد بتایا کہ کمپنی کے پاس ایسا کوئی خط، ای میل یا دستاویز موجود نہیں تھی جس سے ثابت ہو کہ ملازمہ کو ملازمت ختم ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملازمہ نے فون، ای میل اور یہاں تک کہ اخبار میں نوٹس کے ذریعے بھی کمپنی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملازمت قانونی طور پر برقرار رہی، اس لیے کمپنی ملازمہ کی بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کی پابند ہے۔
فیصلے کے مطابق کمپنی کو:
• **760,354 درہم** بقایا تنخواہیں
• **57,088 درہم** اینڈ آف سروس گریجویٹی
• **58,317 درہم** غیر استعمال شدہ سالانہ چھٹیوں کی رقم
ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
اس کے علاوہ کمپنی کو ملازمہ کے وطن واپسی کے ٹکٹ کا بندوبست کرنے یا **2,500 درہم** ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا، بشرطیکہ وہ کسی نئی کمپنی میں ملازمت اختیار نہ کر چکی ہو۔
ابوظہبی کی عدالت نے ایک کمپنی کو ملازمہ کی تنخواہ بند کرنے لیکن باضابطہ برطرف نہ کرنے پر **875,761 درہم** ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ تحریری برطرفی کے بغیر ملازمت قانونی طور پر برقرار رہتی ہے۔
**اگلی نیوز بھی پڑھیں:**
عدالت نے کمپنی کو قانونی اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا، جبکہ ملازمہ کے بونس سے متعلق دعوے مسترد کر دیے گئے کیونکہ وہ مقررہ شرائط پوری نہیں کرتی تھیں۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ یو اے ای میں ملازمت ختم کرنے کے لیے باضابطہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔