پاکستان پولیو کے خاتمے کے تاریخی موڑ پر، عالمی ادارۂ صحت کا بڑا اعلان: اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن قرار

پاکستان پولیو کے خاتمے کے تاریخی موڑ پر، عالمی ادارۂ صحت کا بڑا اعلان: اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن قرار

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ صرف تین پولیو کیسز کے بعد پاکستان کے پاس پولیو کے مکمل خاتمے کا سنہری موقع موجود ہے، مگر کامیابی کے لیے فوری اور مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں۔

پاکستان پولیو کے خاتمے کے سفر میں ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گیا ہے جسے عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے "تاریخی موقع” قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اگر آئندہ **6 سے 12 ماہ** کے دوران ویکسینیشن مہم، نگرانی اور حکومتی اقدامات پوری شدت سے جاری رکھے گئے تو پاکستان پہلی بار جنگلی پولیو وائرس (Wild Poliovirus) کی منتقلی مکمل طور پر روکنے کے بہت قریب پہنچ سکتا ہے۔ سال **2026** میں اب تک ملک بھر میں صرف **3 پولیو کیسز** رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ وائرس کی موجودگی زیادہ تر جنوبی خیبر پختونخوا تک محدود رہ گئی ہے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے ریجنل ڈائریکٹر **ڈاکٹر حنان بلخی** نے پاکستان کے دورے کے بعد کہا کہ دستیاب شواہد اور ماہرین سے ہونے والی ملاقاتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کے پاس پولیو کے خاتمے کا حقیقی موقع موجود ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل پہلے ہی موجود ہیں، جن میں مؤثر ویکسین، جدید سائنسی حکمت عملی، لاکھوں تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز اور حکومت کی مضبوط قیادت شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ چند ماہ میں کوششوں میں مزید تیزی نہ لائی گئی تو یہ تاریخی موقع ضائع بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے پر آنے والی لاگت، اس بیماری کے مسلسل پھیلاؤ سے ہونے والے نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ان کے مطابق اگر آج فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں تو مستقبل میں لاکھوں بچوں کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر حنان بلخی نے وزیراعظم **شہباز شریف** اور پاکستانی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے "پورے حکومتی نظام” (Whole-of-Government Approach) کو متحرک کیا گیا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عزم، مقامی کمیونٹیز کا تعاون اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی مسلسل محنت ہی اس مشن کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

یہ اعلیٰ سطحی وفد **پولیو اوور سائٹ بورڈ (POB)** کے چیئرمین **مائیک میک گورن** کی قیادت میں پاکستان پہنچا۔ وفد میں یونیسیف ایشیا پیسیفک کے ریجنل ڈائریکٹر **سنجے وجیسیکرا**، کے ایس ریلیف کے سینئر ایڈوائزر **ڈاکٹر زیاد میمش**، گیوی کی سی ای او **ڈاکٹر ثانیہ نشتر**، گیٹس فاؤنڈیشن کے **ڈاکٹر کرس الیاس** اور امریکی سی ڈی سی کے پولیو ٹیم لیڈ **ڈاکٹر اوموٹایو بولو** سمیت کئی عالمی ماہرین شامل تھے۔

وفد نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر صحت **سید مصطفیٰ کمال**، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ **اسحاق ڈار**، پولیو کے لیے وزیراعظم کی فوکل پرسن **سینیٹر عائشہ رضا فاروق** اور پاک فوج کے انجینئر اِن چیف **لیفٹیننٹ جنرل کاشف نذیر** سمیت اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

وفد نے پولیو مہم میں شریک فرنٹ لائن خواتین ویکسینیٹرز سے بھی ملاقات کی، جو پاکستان کے **4 لاکھ سے زائد** پولیو ورکرز کا بڑا حصہ ہیں۔ ان میں تقریباً **60 فیصد خواتین** شامل ہیں، جو ملک بھر میں بچوں کو بار بار ویکسین فراہم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر خدمات انجام دیتی ہیں۔

پاکستان پہنچنے سے قبل عالمی وفد نے افغانستان کا بھی دورہ کیا، جہاں رواں سال **7 پولیو کیسز** رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، اسی لیے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک ہی وبائی خطہ (Epidemiological Block) ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے وائرس کی منتقلی روکنی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری اور ہنگامی پولیو مہموں کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے تاکہ وائرس ختم ہونے کے بعد دوبارہ واپس نہ آ سکے۔

پاکستان کا پولیو پروگرام دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ملک بھر میں **12,500 سے زائد Acute Flaccid Paralysis رپورٹنگ سائٹس** اور **127 ماحولیاتی نگرانی (Environmental Surveillance) مراکز** فعال ہیں، جنہیں عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ ریجنل ریفرنس پولیو لیبارٹری کی معاونت حاصل ہے۔

پولیو اوور سائٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رکھی گئی تو آنے والے مہینوں میں پولیو کا مکمل خاتمہ ایک حقیقت بن سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو پولیو کے خاتمے کے لیے ایک "تاریخی موقع” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ رواں سال ملک میں صرف 3 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور وائرس محدود علاقوں تک رہ گیا ہے۔ عالمی وفد نے حکومت، طبی ماہرین اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ ویکسینیشن، نگرانی اور پاکستان افغانستان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پولیو کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

دبئی فیملی وزٹ ویزا کے قوانین تبدیل؟ اسپانسر کرنے سے پہلے لازمی تنخواہ کی شرط جان لیں

رشتہ دار یا دوست کو دبئی بلانے کے لیے کم از کم کتنی تنخواہ درکار ہے؟ مکمل تفصیلات سامنے آگئیں

اگر آپ دبئی میں رہتے ہیں اور اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کو وزٹ ویزا پر بلانا چاہتے ہیں تو پہلے اسپانسرشپ کی تنخواہ کی شرائط جاننا ضروری ہے۔ دبئی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق مختلف رشتوں کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد الگ الگ مقرر ہے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

قریبی رشتہ داروں یعنی والدین، شریکِ حیات اور بچوں کے لیے کم از کم **4,000 درہم ماہانہ** تنخواہ ضروری ہے۔ بہن بھائی، دادا دادی، نانا نانی، پوتے پوتیاں، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی اور کزنز جیسے دیگر رشتہ داروں کے لیے کم از کم **8,000 درہم** جبکہ کسی دوست کو اسپانسر کرنے کے لیے **15,000 درہم ماہانہ** آمدنی لازمی ہے۔

اس کے علاوہ اسپانسر کے پاس **درست یو اے ای ریزیڈنس ویزا، ایمریٹس آئی ڈی** اور آمدنی کا ثبوت ہونا ضروری ہے۔ فیملی ممبر کے لیے درخواست دیتے وقت پیدائش یا نکاح نامہ جیسے تصدیق شدہ دستاویزات بھی جمع کرانا لازمی ہوں گے۔ وزٹ ویزا 30، 60 یا 90 دن کے لیے سنگل یا ملٹی پل انٹری کی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔

دبئی میں فیملی یا دوست کو وزٹ ویزا پر بلانے کے لیے نئی تنخواہ کی شرائط واضح کر دی گئی ہیں۔ قریبی رشتہ داروں کے لیے کم از کم 4 ہزار درہم، دیگر رشتہ داروں کے لیے 8 ہزار اور دوست کے لیے 15 ہزار درہم ماہانہ آمدنی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ریزیڈنس ویزا، ایمریٹس آئی ڈی اور مطلوبہ دستاویزات بھی لازمی ہوں گی۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

یو اے ای میں موسم کا بڑا یو ٹرن، درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور بارش کی پیش گوئی

مشرقٰی علاقوں میں گرج چمک والے بادل، کئی روز تک بارش، دھند اور گرد آلود ہواؤں کا امکان

یو اے ای میں موسم خوشگوار ہونے کی توقع ہے کیونکہ درجہ حرارت میں مزید کمی ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج مشرقی علاقوں میں گرج چمک والے بادل بننے سے دوپہر کے وقت ہلکی بارش کا امکان ہے، جبکہ رات اور صبح کے اوقات میں بعض ساحلی اور اندرونی علاقوں میں دھند یا ہلکی دھند چھا سکتی ہے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

آج اندرونی علاقوں میں درجہ حرارت **42 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ**، ساحلی علاقوں میں **36 سے 41 ڈگری** اور پہاڑی علاقوں میں **33 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ** رہنے کی توقع ہے۔ ہلکی سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں جبکہ سمندر مجموعی طور پر پرسکون رہے گا۔

پیر سے جمعرات تک موسم زیادہ تر صاف سے جزوی ابر آلود رہے گا، جبکہ مشرقی علاقوں میں تقریباً روزانہ دوپہر کے وقت بارش کا امکان برقرار رہے گا۔ منگل کو جنوبی علاقوں میں بھی بارش کے بادل بن سکتے ہیں، شمالی ساحلی علاقوں میں مزید ٹھنڈک محسوس ہوگی اور بعض مقامات پر گرد آلود ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔

یو اے ای میں موسم نے رخ بدلنا شروع کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ آج اور آئندہ چند روز تک مشرقی علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ رات اور صبح دھند، جبکہ بعض علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرد آلود موسم کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

یو اے ای میں اسکول بس فیس میں اضافے کا اعلان، نئے تعلیمی سال سے والدین پر مزید مالی بوجھ

ایندھن اور آپریشنل اخراجات بڑھنے کے باعث بعض اسکولوں میں بس فیس 5 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ، والدین کو پیشگی رجسٹریشن کی ہدایت۔

یو اے ای میں نئے تعلیمی سال **2026-27** سے پہلے بعض اسکولوں نے اسکول بس فیس میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ کچھ اسکولوں میں ٹرانسپورٹ فیس **5 فیصد** تک بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ اس کی وجہ ایندھن اور سروس کے بڑھتے ہوئے اخراجات بتائی گئی ہے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

**GEMS Winchester School Dubailand** میں **STS Group** کی بس سروس استعمال کرنے والے والدین کو اطلاع دی گئی ہے کہ نئی فیس نافذ ہوگی۔ کمپنی کے مطابق فیس میں اضافہ محفوظ، معیاری اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ سروس برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جبکہ والدین کو مقررہ تاریخ تک بچوں کی دوبارہ رجسٹریشن مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

**Delhi Private School Dubai** کے مطابق کئی اسکولوں نے والدین پر بوجھ کم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بس فیس میں صرف **3 سے 4 فیصد** اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب **STS Group** نے واضح کیا ہے کہ تمام اسکولوں میں یکساں اضافہ نہیں کیا گیا، بلکہ ہر اسکول کے ساتھ الگ معاہدے اور آپریشنل ضروریات کے مطابق فیس مقرر کی جاتی ہے۔

والدین کے لیے یہ اضافہ ٹیوشن فیس، یونیفارم، کتابوں اور دیگر تعلیمی اخراجات کے ساتھ نئے تعلیمی سال کے بجٹ میں ایک اور اضافی خرچ ثابت ہوگا۔

یو اے ای میں نئے تعلیمی سال سے پہلے بعض اسکولوں نے اسکول بس فیس میں 5 فیصد تک اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ایندھن اور آپریشنل اخراجات بڑھنے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ کچھ اسکولوں نے فیس میں صرف 3 سے 4 فیصد اضافہ رکھا ہے تاکہ والدین پر مالی بوجھ کم رہے۔

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔