سعودی عرب پر بڑا ڈرون حملہ ناکام، فضائی دفاع نے تیل تنصیبات کو تباہی سے بچا لیا

سعودی عرب پر بڑا ڈرون حملہ ناکام، فضائی دفاع نے تیل تنصیبات کو تباہی سے بچا لیا
سعودی وزارتِ دفاع کا دعویٰ، مشرقی صوبے اور ریاض کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرون مار گرائے گئے، حملوں کا الزام ایران نواز ملیشیاؤں پر عائد۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ مملکت کے فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران متعدد ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا، جن کا مبینہ مقصد مشرقی صوبے میں واقع اہم تیل تنصیبات اور ریاض کے علاقے کو نشانہ بنانا تھا۔ وزارت کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث کسی بڑے نقصان یا تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
سعودی وزارتِ دفاع کے سرکاری ترجمان **میجر جنرل ترکی المالکی** نے بتایا کہ یہ ڈرون حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان کے پیچھے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیائیں ملوث تھیں۔ ان کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے خطرے کو بروقت شناخت کرتے ہوئے تمام حملہ آور ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔
ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنے عوام، اپنی سرزمین اور اہم تنصیبات کے دفاع کا مکمل اور قانونی حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مملکت اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اس حملے کے جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے اور مناسب وقت، مناسب مقام اور اپنی حکمتِ عملی کے مطابق ردعمل دینے کا اختیار رکھتا ہے۔
اس واقعے کے بعد خطے میں سلامتی کی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ سعودی عرب نے اپنے اہم توانائی کے انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات مزید مضبوط رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مشرقی صوبے کی تیل تنصیبات اور ریاض کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرون حملے ناکام بنا دیے۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق حملے عراقی سرزمین سے ایران نواز ملیشیاؤں نے کیے۔ مملکت نے کہا ہے کہ اسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور وہ مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا اختیار محفوظ رکھتی ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
پاکستان پولیو کے خاتمے کے تاریخی موڑ پر، عالمی ادارۂ صحت کا بڑا اعلان: اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن قرار
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ صرف تین پولیو کیسز کے بعد پاکستان کے پاس پولیو کے مکمل خاتمے کا سنہری موقع موجود ہے، مگر کامیابی کے لیے فوری اور مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں۔
پاکستان پولیو کے خاتمے کے سفر میں ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گیا ہے جسے عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے "تاریخی موقع” قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اگر آئندہ **6 سے 12 ماہ** کے دوران ویکسینیشن مہم، نگرانی اور حکومتی اقدامات پوری شدت سے جاری رکھے گئے تو پاکستان پہلی بار جنگلی پولیو وائرس (Wild Poliovirus) کی منتقلی مکمل طور پر روکنے کے بہت قریب پہنچ سکتا ہے۔ سال **2026** میں اب تک ملک بھر میں صرف **3 پولیو کیسز** رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ وائرس کی موجودگی زیادہ تر جنوبی خیبر پختونخوا تک محدود رہ گئی ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے ریجنل ڈائریکٹر **ڈاکٹر حنان بلخی** نے پاکستان کے دورے کے بعد کہا کہ دستیاب شواہد اور ماہرین سے ہونے والی ملاقاتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کے پاس پولیو کے خاتمے کا حقیقی موقع موجود ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل پہلے ہی موجود ہیں، جن میں مؤثر ویکسین، جدید سائنسی حکمت عملی، لاکھوں تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز اور حکومت کی مضبوط قیادت شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ چند ماہ میں کوششوں میں مزید تیزی نہ لائی گئی تو یہ تاریخی موقع ضائع بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے پر آنے والی لاگت، اس بیماری کے مسلسل پھیلاؤ سے ہونے والے نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ان کے مطابق اگر آج فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں تو مستقبل میں لاکھوں بچوں کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر حنان بلخی نے وزیراعظم **شہباز شریف** اور پاکستانی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے "پورے حکومتی نظام” (Whole-of-Government Approach) کو متحرک کیا گیا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عزم، مقامی کمیونٹیز کا تعاون اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی مسلسل محنت ہی اس مشن کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
یہ اعلیٰ سطحی وفد **پولیو اوور سائٹ بورڈ (POB)** کے چیئرمین **مائیک میک گورن** کی قیادت میں پاکستان پہنچا۔ وفد میں یونیسیف ایشیا پیسیفک کے ریجنل ڈائریکٹر **سنجے وجیسیکرا**، کے ایس ریلیف کے سینئر ایڈوائزر **ڈاکٹر زیاد میمش**، گیوی کی سی ای او **ڈاکٹر ثانیہ نشتر**، گیٹس فاؤنڈیشن کے **ڈاکٹر کرس الیاس** اور امریکی سی ڈی سی کے پولیو ٹیم لیڈ **ڈاکٹر اوموٹایو بولو** سمیت کئی عالمی ماہرین شامل تھے۔
وفد نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر صحت **سید مصطفیٰ کمال**، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ **اسحاق ڈار**، پولیو کے لیے وزیراعظم کی فوکل پرسن **سینیٹر عائشہ رضا فاروق** اور پاک فوج کے انجینئر اِن چیف **لیفٹیننٹ جنرل کاشف نذیر** سمیت اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
وفد نے پولیو مہم میں شریک فرنٹ لائن خواتین ویکسینیٹرز سے بھی ملاقات کی، جو پاکستان کے **4 لاکھ سے زائد** پولیو ورکرز کا بڑا حصہ ہیں۔ ان میں تقریباً **60 فیصد خواتین** شامل ہیں، جو ملک بھر میں بچوں کو بار بار ویکسین فراہم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر خدمات انجام دیتی ہیں۔
پاکستان پہنچنے سے قبل عالمی وفد نے افغانستان کا بھی دورہ کیا، جہاں رواں سال **7 پولیو کیسز** رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، اسی لیے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک ہی وبائی خطہ (Epidemiological Block) ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے وائرس کی منتقلی روکنی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری اور ہنگامی پولیو مہموں کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے تاکہ وائرس ختم ہونے کے بعد دوبارہ واپس نہ آ سکے۔
پاکستان کا پولیو پروگرام دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ملک بھر میں **12,500 سے زائد Acute Flaccid Paralysis رپورٹنگ سائٹس** اور **127 ماحولیاتی نگرانی (Environmental Surveillance) مراکز** فعال ہیں، جنہیں عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ ریجنل ریفرنس پولیو لیبارٹری کی معاونت حاصل ہے۔
پولیو اوور سائٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رکھی گئی تو آنے والے مہینوں میں پولیو کا مکمل خاتمہ ایک حقیقت بن سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو پولیو کے خاتمے کے لیے ایک "تاریخی موقع” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ رواں سال ملک میں صرف 3 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور وائرس محدود علاقوں تک رہ گیا ہے۔ عالمی وفد نے حکومت، طبی ماہرین اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ ویکسینیشن، نگرانی اور پاکستان افغانستان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پولیو کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو سکے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
دبئی فیملی وزٹ ویزا کے قوانین تبدیل؟ اسپانسر کرنے سے پہلے لازمی تنخواہ کی شرط جان لیں
رشتہ دار یا دوست کو دبئی بلانے کے لیے کم از کم کتنی تنخواہ درکار ہے؟ مکمل تفصیلات سامنے آگئیں
اگر آپ دبئی میں رہتے ہیں اور اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کو وزٹ ویزا پر بلانا چاہتے ہیں تو پہلے اسپانسرشپ کی تنخواہ کی شرائط جاننا ضروری ہے۔ دبئی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق مختلف رشتوں کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد الگ الگ مقرر ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
قریبی رشتہ داروں یعنی والدین، شریکِ حیات اور بچوں کے لیے کم از کم **4,000 درہم ماہانہ** تنخواہ ضروری ہے۔ بہن بھائی، دادا دادی، نانا نانی، پوتے پوتیاں، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی اور کزنز جیسے دیگر رشتہ داروں کے لیے کم از کم **8,000 درہم** جبکہ کسی دوست کو اسپانسر کرنے کے لیے **15,000 درہم ماہانہ** آمدنی لازمی ہے۔
اس کے علاوہ اسپانسر کے پاس **درست یو اے ای ریزیڈنس ویزا، ایمریٹس آئی ڈی** اور آمدنی کا ثبوت ہونا ضروری ہے۔ فیملی ممبر کے لیے درخواست دیتے وقت پیدائش یا نکاح نامہ جیسے تصدیق شدہ دستاویزات بھی جمع کرانا لازمی ہوں گے۔ وزٹ ویزا 30، 60 یا 90 دن کے لیے سنگل یا ملٹی پل انٹری کی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔
دبئی میں فیملی یا دوست کو وزٹ ویزا پر بلانے کے لیے نئی تنخواہ کی شرائط واضح کر دی گئی ہیں۔ قریبی رشتہ داروں کے لیے کم از کم 4 ہزار درہم، دیگر رشتہ داروں کے لیے 8 ہزار اور دوست کے لیے 15 ہزار درہم ماہانہ آمدنی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ریزیڈنس ویزا، ایمریٹس آئی ڈی اور مطلوبہ دستاویزات بھی لازمی ہوں گی۔