وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی اہم ملاقات، ایران جنگ، سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر بڑے فیصلوں کا امکان
ایران کے ساتھ کشیدگی، جنگ بندی، سفارتی مذاکرات اور خطے میں امن کے امکانات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان اہم بات چیت متوقع۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی اہم ملاقات، ایران جنگ، سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر بڑے فیصلوں کا امکان
امریکی صدر **ڈونلڈ ٹرمپ** سے ملاقات کے لیے اسرائیلی وزیراعظم **بنجمن نیتن یاہو** منگل کے روز وائٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی براہِ راست ملاقات ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس ملاقات کا بنیادی محور ایران کے ساتھ جاری تنازع، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور مستقبل کی امریکی و اسرائیلی حکمتِ عملی ہوگی۔ دونوں رہنما ایسے وقت میں آمنے سامنے آئے ہیں جب حالیہ دنوں میں جنگی کارروائیوں میں عارضی وقفہ آیا ہے اور واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ سفارتی مذاکرات کو ایک اور موقع دینا چاہتا ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جاری کشیدگی کا آغاز فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد ہوا تھا، جس کے بعد خطے میں صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی۔ تاہم حالیہ دنوں میں براہِ راست لڑائی میں وقتی کمی دیکھی گئی ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اسرائیل نے امریکہ اور ایران کے درمیان اس ماہ دوبارہ بھڑکنے والی حالیہ جھڑپوں میں براہِ راست حصہ نہیں لیا۔ یہ کشیدگی اس وقت دوبارہ بڑھی جب اپریل میں ہونے والی جنگ بندی ناکام ہوگئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گیا۔
اسرائیل سے روانگی سے قبل وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تمام اہم معاملات پر بات کریں گے، تاہم ایران ان کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ملاقات کے نتائج نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کی آئندہ پالیسی پر اثر انداز ہوں گے بلکہ ایران، مشرقِ وسطیٰ کے امن، سفارتی مذاکرات اور علاقائی استحکام کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان اہم ملاقات جاری ہے، جس میں ایران کے ساتھ کشیدگی، جنگ کے بعد کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور امن مذاکرات پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ترجیح اپنی سلامتی کا تحفظ اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینا ہے، جبکہ امریکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
پاکستان پولیو کے خاتمے کے تاریخی موڑ پر، عالمی ادارۂ صحت کا بڑا اعلان: اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن قرار
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ صرف تین پولیو کیسز کے بعد پاکستان کے پاس پولیو کے مکمل خاتمے کا سنہری موقع موجود ہے، مگر کامیابی کے لیے فوری اور مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں۔
پاکستان پولیو کے خاتمے کے سفر میں ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گیا ہے جسے عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے "تاریخی موقع” قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اگر آئندہ **6 سے 12 ماہ** کے دوران ویکسینیشن مہم، نگرانی اور حکومتی اقدامات پوری شدت سے جاری رکھے گئے تو پاکستان پہلی بار جنگلی پولیو وائرس (Wild Poliovirus) کی منتقلی مکمل طور پر روکنے کے بہت قریب پہنچ سکتا ہے۔ سال **2026** میں اب تک ملک بھر میں صرف **3 پولیو کیسز** رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ وائرس کی موجودگی زیادہ تر جنوبی خیبر پختونخوا تک محدود رہ گئی ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے ریجنل ڈائریکٹر **ڈاکٹر حنان بلخی** نے پاکستان کے دورے کے بعد کہا کہ دستیاب شواہد اور ماہرین سے ہونے والی ملاقاتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کے پاس پولیو کے خاتمے کا حقیقی موقع موجود ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل پہلے ہی موجود ہیں، جن میں مؤثر ویکسین، جدید سائنسی حکمت عملی، لاکھوں تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز اور حکومت کی مضبوط قیادت شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ چند ماہ میں کوششوں میں مزید تیزی نہ لائی گئی تو یہ تاریخی موقع ضائع بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے پر آنے والی لاگت، اس بیماری کے مسلسل پھیلاؤ سے ہونے والے نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ان کے مطابق اگر آج فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں تو مستقبل میں لاکھوں بچوں کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر حنان بلخی نے وزیراعظم **شہباز شریف** اور پاکستانی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے "پورے حکومتی نظام” (Whole-of-Government Approach) کو متحرک کیا گیا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عزم، مقامی کمیونٹیز کا تعاون اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی مسلسل محنت ہی اس مشن کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
یہ اعلیٰ سطحی وفد **پولیو اوور سائٹ بورڈ (POB)** کے چیئرمین **مائیک میک گورن** کی قیادت میں پاکستان پہنچا۔ وفد میں یونیسیف ایشیا پیسیفک کے ریجنل ڈائریکٹر **سنجے وجیسیکرا**، کے ایس ریلیف کے سینئر ایڈوائزر **ڈاکٹر زیاد میمش**، گیوی کی سی ای او **ڈاکٹر ثانیہ نشتر**، گیٹس فاؤنڈیشن کے **ڈاکٹر کرس الیاس** اور امریکی سی ڈی سی کے پولیو ٹیم لیڈ **ڈاکٹر اوموٹایو بولو** سمیت کئی عالمی ماہرین شامل تھے۔
وفد نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر صحت **سید مصطفیٰ کمال**، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ **اسحاق ڈار**، پولیو کے لیے وزیراعظم کی فوکل پرسن **سینیٹر عائشہ رضا فاروق** اور پاک فوج کے انجینئر اِن چیف **لیفٹیننٹ جنرل کاشف نذیر** سمیت اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
وفد نے پولیو مہم میں شریک فرنٹ لائن خواتین ویکسینیٹرز سے بھی ملاقات کی، جو پاکستان کے **4 لاکھ سے زائد** پولیو ورکرز کا بڑا حصہ ہیں۔ ان میں تقریباً **60 فیصد خواتین** شامل ہیں، جو ملک بھر میں بچوں کو بار بار ویکسین فراہم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر خدمات انجام دیتی ہیں۔
پاکستان پہنچنے سے قبل عالمی وفد نے افغانستان کا بھی دورہ کیا، جہاں رواں سال **7 پولیو کیسز** رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، اسی لیے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک ہی وبائی خطہ (Epidemiological Block) ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے وائرس کی منتقلی روکنی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری اور ہنگامی پولیو مہموں کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے تاکہ وائرس ختم ہونے کے بعد دوبارہ واپس نہ آ سکے۔
پاکستان کا پولیو پروگرام دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ملک بھر میں **12,500 سے زائد Acute Flaccid Paralysis رپورٹنگ سائٹس** اور **127 ماحولیاتی نگرانی (Environmental Surveillance) مراکز** فعال ہیں، جنہیں عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ ریجنل ریفرنس پولیو لیبارٹری کی معاونت حاصل ہے۔
پولیو اوور سائٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رکھی گئی تو آنے والے مہینوں میں پولیو کا مکمل خاتمہ ایک حقیقت بن سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو پولیو کے خاتمے کے لیے ایک "تاریخی موقع” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ رواں سال ملک میں صرف 3 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور وائرس محدود علاقوں تک رہ گیا ہے۔ عالمی وفد نے حکومت، طبی ماہرین اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ ویکسینیشن، نگرانی اور پاکستان افغانستان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پولیو کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو سکے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
دبئی فیملی وزٹ ویزا کے قوانین تبدیل؟ اسپانسر کرنے سے پہلے لازمی تنخواہ کی شرط جان لیں
رشتہ دار یا دوست کو دبئی بلانے کے لیے کم از کم کتنی تنخواہ درکار ہے؟ مکمل تفصیلات سامنے آگئیں
اگر آپ دبئی میں رہتے ہیں اور اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کو وزٹ ویزا پر بلانا چاہتے ہیں تو پہلے اسپانسرشپ کی تنخواہ کی شرائط جاننا ضروری ہے۔ دبئی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق مختلف رشتوں کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد الگ الگ مقرر ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
قریبی رشتہ داروں یعنی والدین، شریکِ حیات اور بچوں کے لیے کم از کم **4,000 درہم ماہانہ** تنخواہ ضروری ہے۔ بہن بھائی، دادا دادی، نانا نانی، پوتے پوتیاں، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی اور کزنز جیسے دیگر رشتہ داروں کے لیے کم از کم **8,000 درہم** جبکہ کسی دوست کو اسپانسر کرنے کے لیے **15,000 درہم ماہانہ** آمدنی لازمی ہے۔
اس کے علاوہ اسپانسر کے پاس **درست یو اے ای ریزیڈنس ویزا، ایمریٹس آئی ڈی** اور آمدنی کا ثبوت ہونا ضروری ہے۔ فیملی ممبر کے لیے درخواست دیتے وقت پیدائش یا نکاح نامہ جیسے تصدیق شدہ دستاویزات بھی جمع کرانا لازمی ہوں گے۔ وزٹ ویزا 30، 60 یا 90 دن کے لیے سنگل یا ملٹی پل انٹری کی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔
دبئی میں فیملی یا دوست کو وزٹ ویزا پر بلانے کے لیے نئی تنخواہ کی شرائط واضح کر دی گئی ہیں۔ قریبی رشتہ داروں کے لیے کم از کم 4 ہزار درہم، دیگر رشتہ داروں کے لیے 8 ہزار اور دوست کے لیے 15 ہزار درہم ماہانہ آمدنی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ریزیڈنس ویزا، ایمریٹس آئی ڈی اور مطلوبہ دستاویزات بھی لازمی ہوں گی۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
یو اے ای میں موسم کا بڑا یو ٹرن، درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور بارش کی پیش گوئی
مشرقٰی علاقوں میں گرج چمک والے بادل، کئی روز تک بارش، دھند اور گرد آلود ہواؤں کا امکان
یو اے ای میں موسم خوشگوار ہونے کی توقع ہے کیونکہ درجہ حرارت میں مزید کمی ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج مشرقی علاقوں میں گرج چمک والے بادل بننے سے دوپہر کے وقت ہلکی بارش کا امکان ہے، جبکہ رات اور صبح کے اوقات میں بعض ساحلی اور اندرونی علاقوں میں دھند یا ہلکی دھند چھا سکتی ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
آج اندرونی علاقوں میں درجہ حرارت **42 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ**، ساحلی علاقوں میں **36 سے 41 ڈگری** اور پہاڑی علاقوں میں **33 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ** رہنے کی توقع ہے۔ ہلکی سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں جبکہ سمندر مجموعی طور پر پرسکون رہے گا۔
پیر سے جمعرات تک موسم زیادہ تر صاف سے جزوی ابر آلود رہے گا، جبکہ مشرقی علاقوں میں تقریباً روزانہ دوپہر کے وقت بارش کا امکان برقرار رہے گا۔ منگل کو جنوبی علاقوں میں بھی بارش کے بادل بن سکتے ہیں، شمالی ساحلی علاقوں میں مزید ٹھنڈک محسوس ہوگی اور بعض مقامات پر گرد آلود ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
یو اے ای میں موسم نے رخ بدلنا شروع کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ آج اور آئندہ چند روز تک مشرقی علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ رات اور صبح دھند، جبکہ بعض علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرد آلود موسم کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔