دبئی پولیس کا منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، سینکڑوں ویب سائٹس بند، عالمی سطح پر اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز
2026 کی دوسری سہ ماہی میں دبئی پولیس کی مؤثر کارروائیاں، 297 منشیات فروغ دینے والی ویب سائٹس بلاک، 125 انٹیلی جنس رپورٹس عالمی اداروں سے شیئر، لاکھوں افراد تک آگاہی مہم پہنچ گئی۔

دبئی پولیس کا منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، سینکڑوں ویب سائٹس بند، عالمی سطح پر اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں تیز
دبئی پولیس نے 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران منشیات کے خلاف اپنی کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے **297 ایسی ویب سائٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز بند کر دیے** جو منشیات کی تشہیر یا فروغ میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ **125 انٹیلی جنس رپورٹس** مختلف بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر کی گئیں، جس سے بیرونِ ملک منشیات اسمگلنگ کے متعدد مشتبہ افراد کی گرفتاری میں مدد ملی۔
یہ اعداد و شمار اپریل سے جون 2026 کے دوران ہونے والی سہ ماہی کارکردگی جائزہ اجلاس میں سامنے آئے، جس کی صدارت **میجر جنرل حارب الشمسی**، ڈپٹی کمانڈر اِن چیف برائے کرمنل افیئرز، نے کی۔ اجلاس میں منشیات سے متعلق مقدمات، برآمدگیوں، انسدادِ منشیات کارروائیوں اور عوامی آگاہی مہمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
**بین الاقوامی تعاون سے منشیات اسمگلروں کے گرد گھیرا تنگ**
دبئی پولیس کے جنرل ڈپارٹمنٹ آف اینٹی نارکوٹکس کے ڈائریکٹر **بریگیڈیئر خالد بن معویضہ** نے اجلاس میں کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ سرحدوں تک محدود نہیں، اس لیے اس کے خلاف کارروائیاں بھی عالمی سطح پر مربوط تعاون کے ذریعے ہی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دوسری سہ ماہی کے دوران **125 انٹیلی جنس رپورٹس** عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر کی گئیں، جن کی بنیاد پر بیرونِ ملک متعدد منشیات فروشوں اور اسمگلروں کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
اسی عرصے میں پولیس نے انٹرنیٹ پر سرگرم **297 ایسے پلیٹ فارمز اور ویب سائٹس** کی نشاندہی کر کے انہیں بلاک کیا جو منشیات کی تشہیر، خرید و فروخت یا غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے تھے۔
**آگاہی مہمات کے ذریعے 87 لاکھ سے زائد افراد تک رسائی**
دبئی پولیس نے صرف قانون نافذ کرنے تک اپنی کوششیں محدود نہیں رکھیں بلکہ عوامی آگاہی پر بھی خصوصی توجہ دی۔
**ہمایہ انٹرنیشنل سینٹر** نے اپریل سے جون کے دوران **95 آگاہی پروگرامز** منعقد کیے، جن میں **467,879 افراد** نے براہِ راست شرکت کی۔
اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چلائی جانے والی مہمات کے ذریعے **8,723,327 افراد** تک انسدادِ منشیات اور سیکیورٹی سے متعلق آگاہی کا پیغام پہنچایا گیا۔
ان مہمات کا مقصد صرف عوام کو معلومات فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ خاندانوں اور مقامی کمیونٹیز کو بھی اس قابل بنانا تھا کہ وہ منشیات سے متعلق خطرات کی بروقت نشاندہی کریں اور ابتدائی مرحلے میں ہی ان کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
### **افسران کی کارکردگی کو سراہا گیا**
میجر جنرل حارب الشمسی نے انسدادِ منشیات کے شعبے میں کام کرنے والے افسران اور معاون عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل محنت کے باعث منشیات کی غیر قانونی سرگرمیوں میں کمی آئی، اسمگلروں کی گرفتاریاں ممکن ہوئیں اور محکمہ مجموعی طور پر اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی، مسلسل تربیت اور بین الاقوامی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور تقسیم کے نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں ختم کیا جا سکے۔
یہ سہ ماہی جائزہ دبئی پولیس کے اس مستقل نظام کا حصہ ہے جس کے تحت ہر شعبے کی کارکردگی کا باقاعدگی سے تجزیہ کیا جاتا ہے، اسٹریٹجک اہداف کا جائزہ لیا جاتا ہے اور سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کی پیش رفت کو بھی جانچا جاتا ہے۔
دبئی پولیس نے 2026 کی دوسری سہ ماہی میں منشیات کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے 297 منشیات فروغ دینے والی ویب سائٹس بند کر دیں اور 125 انٹیلی جنس رپورٹس عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر کیں، جس سے بیرونِ ملک اسمگلروں کی گرفتاریاں ممکن ہوئیں۔ دوسری جانب 95 آگاہی پروگرامز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے 87 لاکھ سے زائد افراد تک انسدادِ منشیات کا پیغام پہنچایا گیا، جبکہ پولیس نے مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
ابوظہبی میں گرد و غبار کا خطرناک طوفان، اہم شاہراہ پر اچانک رفتار کی حد کم، پولیس نے ڈرائیورز کے لیے ہنگامی ہدایات جاری کر دیں
ابوظہبی میں گرد و غبار اور دھند کے باعث حدِ نگاہ متاثر ہونے پر **ابوظہبی پولیس** نے اہم شاہراہ **شیخ طحنون بن محمد روڈ (مساکن – الشویب برج)** پر رفتار کی حد عارضی طور پر کم کر کے **100 کلومیٹر فی گھنٹہ** مقرر کر دی ہے۔
یہ اقدام ڈرائیورز اور دیگر سڑک استعمال کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ گرد آلود موسم کے باعث سڑکوں پر دیکھنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
ابوظہبی پولیس نے اپنے سرکاری بیان میں تمام ڈرائیورز کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر معمولی احتیاط سے گاڑی چلائیں، مقررہ رفتار کی پابندی کریں اور مکمل توجہ سڑک پر رکھیں۔ پولیس نے خاص طور پر خبردار کیا ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے، تصاویر یا ویڈیوز بنانے اور دیگر توجہ ہٹانے والی سرگرمیوں سے مکمل گریز کیا جائے تاکہ اپنی اور دوسروں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں موسم غیر مستحکم ہے۔ **نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (NCM)** کے مطابق ملک کے مشرقی علاقوں، جن میں **مصفی** اور **مربد** شامل ہیں، میں بعض مقامات پر ژالہ باری اور موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسی دوران ابوظہبی کے مختلف علاقوں میں گرد و غبار اور دھند کے باعث حدِ نگاہ متاثر ہوئی ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ ادارے مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور ضرورت کے مطابق ٹریفک سے متعلق حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین معلومات پر نظر رکھیں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور خراب موسمی حالات کے دوران غیر ضروری سفر سے حتیٰ الامکان گریز کریں۔
ابوظہبی میں گرد و غبار اور دھند کے باعث حدِ نگاہ کم ہونے پر شیخ طحنون بن محمد روڈ پر رفتار کی حد عارضی طور پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔ ابوظہبی پولیس نے ڈرائیورز کو محتاط رہنے، موبائل فون استعمال نہ کرنے اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، ژالہ باری اور خراب موسم بھی ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی اہم ملاقات، ایران جنگ، سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر بڑے فیصلوں کا امکان
امریکی صدر **ڈونلڈ ٹرمپ** سے ملاقات کے لیے اسرائیلی وزیراعظم **بنجمن نیتن یاہو** منگل کے روز وائٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی براہِ راست ملاقات ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس ملاقات کا بنیادی محور ایران کے ساتھ جاری تنازع، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور مستقبل کی امریکی و اسرائیلی حکمتِ عملی ہوگی۔ دونوں رہنما ایسے وقت میں آمنے سامنے آئے ہیں جب حالیہ دنوں میں جنگی کارروائیوں میں عارضی وقفہ آیا ہے اور واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ سفارتی مذاکرات کو ایک اور موقع دینا چاہتا ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جاری کشیدگی کا آغاز فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد ہوا تھا، جس کے بعد خطے میں صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی۔ تاہم حالیہ دنوں میں براہِ راست لڑائی میں وقتی کمی دیکھی گئی ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اسرائیل نے امریکہ اور ایران کے درمیان اس ماہ دوبارہ بھڑکنے والی حالیہ جھڑپوں میں براہِ راست حصہ نہیں لیا۔ یہ کشیدگی اس وقت دوبارہ بڑھی جب اپریل میں ہونے والی جنگ بندی ناکام ہوگئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گیا۔
اسرائیل سے روانگی سے قبل وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تمام اہم معاملات پر بات کریں گے، تاہم ایران ان کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ملاقات کے نتائج نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کی آئندہ پالیسی پر اثر انداز ہوں گے بلکہ ایران، مشرقِ وسطیٰ کے امن، سفارتی مذاکرات اور علاقائی استحکام کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان اہم ملاقات جاری ہے، جس میں ایران کے ساتھ کشیدگی، جنگ کے بعد کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور امن مذاکرات پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ترجیح اپنی سلامتی کا تحفظ اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینا ہے، جبکہ امریکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگلی نیوز بھی پڑھیں
پاکستان پولیو کے خاتمے کے تاریخی موڑ پر، عالمی ادارۂ صحت کا بڑا اعلان: اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن قرار
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ صرف تین پولیو کیسز کے بعد پاکستان کے پاس پولیو کے مکمل خاتمے کا سنہری موقع موجود ہے، مگر کامیابی کے لیے فوری اور مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں۔
پاکستان پولیو کے خاتمے کے سفر میں ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گیا ہے جسے عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے "تاریخی موقع” قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اگر آئندہ **6 سے 12 ماہ** کے دوران ویکسینیشن مہم، نگرانی اور حکومتی اقدامات پوری شدت سے جاری رکھے گئے تو پاکستان پہلی بار جنگلی پولیو وائرس (Wild Poliovirus) کی منتقلی مکمل طور پر روکنے کے بہت قریب پہنچ سکتا ہے۔ سال **2026** میں اب تک ملک بھر میں صرف **3 پولیو کیسز** رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ وائرس کی موجودگی زیادہ تر جنوبی خیبر پختونخوا تک محدود رہ گئی ہے۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے ریجنل ڈائریکٹر **ڈاکٹر حنان بلخی** نے پاکستان کے دورے کے بعد کہا کہ دستیاب شواہد اور ماہرین سے ہونے والی ملاقاتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کے پاس پولیو کے خاتمے کا حقیقی موقع موجود ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے تمام ضروری وسائل پہلے ہی موجود ہیں، جن میں مؤثر ویکسین، جدید سائنسی حکمت عملی، لاکھوں تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز اور حکومت کی مضبوط قیادت شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ چند ماہ میں کوششوں میں مزید تیزی نہ لائی گئی تو یہ تاریخی موقع ضائع بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے پر آنے والی لاگت، اس بیماری کے مسلسل پھیلاؤ سے ہونے والے نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ان کے مطابق اگر آج فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں تو مستقبل میں لاکھوں بچوں کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر حنان بلخی نے وزیراعظم **شہباز شریف** اور پاکستانی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے "پورے حکومتی نظام” (Whole-of-Government Approach) کو متحرک کیا گیا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عزم، مقامی کمیونٹیز کا تعاون اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی مسلسل محنت ہی اس مشن کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
یہ اعلیٰ سطحی وفد **پولیو اوور سائٹ بورڈ (POB)** کے چیئرمین **مائیک میک گورن** کی قیادت میں پاکستان پہنچا۔ وفد میں یونیسیف ایشیا پیسیفک کے ریجنل ڈائریکٹر **سنجے وجیسیکرا**، کے ایس ریلیف کے سینئر ایڈوائزر **ڈاکٹر زیاد میمش**، گیوی کی سی ای او **ڈاکٹر ثانیہ نشتر**، گیٹس فاؤنڈیشن کے **ڈاکٹر کرس الیاس** اور امریکی سی ڈی سی کے پولیو ٹیم لیڈ **ڈاکٹر اوموٹایو بولو** سمیت کئی عالمی ماہرین شامل تھے۔
وفد نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر صحت **سید مصطفیٰ کمال**، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ **اسحاق ڈار**، پولیو کے لیے وزیراعظم کی فوکل پرسن **سینیٹر عائشہ رضا فاروق** اور پاک فوج کے انجینئر اِن چیف **لیفٹیننٹ جنرل کاشف نذیر** سمیت اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
وفد نے پولیو مہم میں شریک فرنٹ لائن خواتین ویکسینیٹرز سے بھی ملاقات کی، جو پاکستان کے **4 لاکھ سے زائد** پولیو ورکرز کا بڑا حصہ ہیں۔ ان میں تقریباً **60 فیصد خواتین** شامل ہیں، جو ملک بھر میں بچوں کو بار بار ویکسین فراہم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر خدمات انجام دیتی ہیں۔
پاکستان پہنچنے سے قبل عالمی وفد نے افغانستان کا بھی دورہ کیا، جہاں رواں سال **7 پولیو کیسز** رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، اسی لیے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک ہی وبائی خطہ (Epidemiological Block) ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے وائرس کی منتقلی روکنی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری اور ہنگامی پولیو مہموں کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے تاکہ وائرس ختم ہونے کے بعد دوبارہ واپس نہ آ سکے۔
پاکستان کا پولیو پروگرام دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ ملک بھر میں **12,500 سے زائد Acute Flaccid Paralysis رپورٹنگ سائٹس** اور **127 ماحولیاتی نگرانی (Environmental Surveillance) مراکز** فعال ہیں، جنہیں عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ ریجنل ریفرنس پولیو لیبارٹری کی معاونت حاصل ہے۔
پولیو اوور سائٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رکھی گئی تو آنے والے مہینوں میں پولیو کا مکمل خاتمہ ایک حقیقت بن سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو پولیو کے خاتمے کے لیے ایک "تاریخی موقع” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے 6 سے 12 ماہ فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ رواں سال ملک میں صرف 3 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور وائرس محدود علاقوں تک رہ گیا ہے۔ عالمی وفد نے حکومت، طبی ماہرین اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ ویکسینیشن، نگرانی اور پاکستان افغانستان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پولیو کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو سکے۔