شارجہ کا 50 کروڑ درہم کا میگا ڈرینیج منصوبہ 70 فیصد مکمل، بارش کے بعد سیلابی صورتحال سے نجات کا بڑا قدم

شارجہ کا 50 کروڑ درہم کا میگا ڈرینیج منصوبہ 70 فیصد مکمل، بارش کے بعد سیلابی صورتحال سے نجات کا بڑا قدم

اہم شاہراہوں، سرنگوں اور رہائشی علاقوں کو پانی جمع ہونے سے بچانے کے لیے جدید ڈرینیج نیٹ ورک تیزی سے تکمیل کے قریب، ٹریفک اور شہری زندگی میں بڑی بہتری متوقع

شارجہ میں **50 کروڑ درہم** لاگت سے تعمیر ہونے والا **مڈ لائن ڈرینیج پروجیکٹ** 70 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ یہ منصوبہ امارت کے سب سے بڑے بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کے منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، جس کا مقصد بارش اور زیرِ زمین پانی کی نکاسی کے نظام کو جدید اور مؤثر بنانا ہے۔

شارجہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ منصوبہ گنجان آباد رہائشی علاقوں سے گزر رہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد سڑکوں، رہائشی محلوں اور دیگر اہم مقامات پر بارش کے بعد پانی جمع ہونے کے مسئلے کا مستقل حل فراہم کرنا ہے، جو حالیہ برسوں میں زیادہ بارشوں کے باعث مزید نمایاں ہو گیا تھا۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

محکمہ کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بارش کا پانی جدید ڈرینیج لائن کے ذریعے سمندر تک منتقل کیا جائے گا، جس سے اہم شاہراہوں، سرنگوں اور آس پاس کی رہائشی آبادیوں میں پانی جمع ہونے سے مؤثر انداز میں بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔

یہ نیا ڈرینیج نیٹ ورک شارجہ کے موجودہ نکاسی آب کے نظام سے بھی منسلک ہوگا، جس سے پورے امارت میں پانی کی نکاسی مزید تیز اور مؤثر ہو جائے گی، جبکہ کھڑے پانی سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے بارش کے دوران ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، سڑکوں پر رش کم ہوگا اور حادثات کے امکانات میں بھی کمی آئے گی۔

اس کے علاوہ منصوبہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو کم کرنے میں بھی مدد دے گا، جس سے عمارتوں کی بنیادوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے تحفظ ملے گا۔

شارجہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین **علی بن شاہین السویدی** نے کہا کہ یہ منصوبہ شارجہ کی مجموعی انفراسٹرکچر ترقیاتی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید اور پائیدار شہری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ منصوبہ امارت میں بدلتے موسمی حالات اور شدید بارشوں کے بڑھتے رجحان سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ عارضی اقدامات کے بجائے ایک مستقل اور مؤثر حل فراہم کیا جا سکے۔

ان کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ہنگامی امدادی کارروائیوں، سڑکوں کی مرمت اور بارش کے دوران ہونے والے اضافی حکومتی اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

**شہریوں کا مثبت ردعمل**

شارجہ کے رہائشیوں نے منصوبے کی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرینیج نیٹ ورک بارش کے بعد بار بار پانی جمع ہونے کے مسئلے کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

شہریوں کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ رہائشی علاقوں کے تحفظ، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور مستقبل میں شارجہ کی مسلسل ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

شارجہ کا 50 کروڑ درہم مالیت کا مڈ لائن ڈرینیج منصوبہ 70 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بارش کا پانی جدید نظام کے ذریعے سمندر تک منتقل کیا جائے گا، جس سے شاہراہوں، سرنگوں اور رہائشی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ ختم ہونے میں مدد ملے گی۔ اس منصوبے سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، حادثات کم ہوں گے، عمارتوں کی بنیادیں محفوظ رہیں گی اور ہنگامی اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ شہریوں نے اس منصوبے کو شارجہ کے مستقبل کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری قرار دیا ہے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

دبئی میں AI ریڈار کا نیا نظام فعال، اب معمولی غفلت بھی بھاری جرمانے اور گاڑی ضبط ہونے کا سبب بن سکتی ہے

دبئی پولیس نے ٹریفک قوانین پر مزید مؤثر عمل درآمد کے لیے جدید **مصنوعی ذہانت (AI)** سے لیس ریڈار سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔ یہ جدید ریڈار دبئی کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر نصب کیے گئے ہیں تاکہ ٹریفک خلاف ورزیوں کی پہلے سے زیادہ درست انداز میں نگرانی کی جا سکے۔

یہ جدید AI ریڈار صرف گاڑی کی رفتار ہی نہیں بلکہ ریڈ سگنل کی خلاف ورزی، خطرناک انداز میں لین تبدیل کرنا، موبائل فون استعمال کرتے ہوئے ڈرائیونگ، سیٹ بیلٹ نہ پہننا اور دیگر کئی خلاف ورزیوں کا بھی فوری طور پر پتہ لگا سکتے ہیں۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

دبئی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کو بھاری جرمانے، بلیک پوائنٹس اور بعض صورتوں میں گاڑی ضبط ہونے جیسی سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام نے تمام موٹر سواروں کو ٹریفک قوانین پر عمل کرنے اور ذمہ داری سے گاڑی چلانے کی ہدایت کی ہے تاکہ سڑکوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

**1۔ رفتار کی حد سے تجاوز (Overspeeding)

**رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ بڑھانے پر:**

* جرمانہ: **3,000 درہم**
* بلیک پوائنٹس: **23**
* گاڑی ضبط: **60 دن (ہلکی گاڑیاں)**

**رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ بڑھانے پر:**

* جرمانہ: **2,000 درہم**
* بلیک پوائنٹس: **12**
* گاڑی ضبط: **30 دن**

**رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک زیادہ ہونے پر:**

* جرمانہ: **1,000 درہم**

**رفتار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک زیادہ ہونے پر:**

* جرمانہ: **700 درہم**

**رفتار 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تک زیادہ ہونے پر:**

* جرمانہ: **600 درہم**

**رفتار 20 کلومیٹر فی گھنٹہ تک زیادہ ہونے پر:**

* جرمانہ: **300 درہم**

**2۔ ریڈ سگنل توڑنا**

متحدہ عرب امارات کے ٹریفک قوانین کے مطابق ریڈ سگنل عبور کرنے پر:

* جرمانہ: **1,000 درہم**
* بلیک پوائنٹس: **12**
* گاڑی ضبط: **30 دن**

دبئی میں ضبط شدہ گاڑی واپس لینے کے لیے **50,000 درہم** ادا کرنا ہوں گے، جیسا کہ **Decree No. 30 of 2023** میں درج ہے۔

**3۔ لین ڈسپلن کی خلاف ورزی**

مخصوص لین میں گاڑی نہ چلانے پر:

* جرمانہ: **400 درہم**

AI ریڈار درج ذیل خطرناک ڈرائیونگ بھی شناخت کر سکتا ہے:

* ہارڈ شولڈر (ایمرجنسی لین) پر گاڑی چلانا۔
* مسلسل سفید لائن عبور کرنا۔
* اچانک لین تبدیل کرنا۔
* خطرناک انداز میں گاڑی کو آگے والی گاڑی کے بہت قریب چلانا (Tailgating)۔

دبئی پولیس محفوظ ڈرائیونگ کے لیے **”دو سیکنڈ رول”** اپنانے کی سفارش کرتی ہے تاکہ گاڑیوں کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رہے۔

**4۔ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنا**

AI ریڈار ڈرائیور کے ہاتھوں کی حرکت اور موبائل فون کی اسکرین کی روشنی کی مدد سے موبائل استعمال کرنے والوں کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

سزا:

* جرمانہ: **800 درہم**
* بلیک پوائنٹس: **4**
* گاڑی ضبط: **30 دن**

**5۔ سیٹ بیلٹ نہ پہننا**

جدید AI ریڈار کم روشنی میں بھی سیٹ بیلٹ اور لباس میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر:

* جرمانہ: **400 درہم**
* بلیک پوائنٹس: **4**

**6۔ غیر قانونی ونڈو ٹنٹنگ**

AI ریڈار غیر قانونی طور پر لگائی گئی گاڑی کی ٹنٹنگ، حتیٰ کہ فرنٹ ونڈ شیلڈ پر بھی، شناخت کر سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے قوانین کے مطابق:

* سائیڈ اور پچھلی کھڑکیوں پر زیادہ سے زیادہ **50 فیصد** ٹنٹنگ کی اجازت ہے۔
* فرنٹ ونڈ شیلڈ مکمل طور پر شفاف ہونی چاہیے تاکہ ڈرائیور کو واضح نظر آئے۔
* دبئی پولیس کے مطابق ونڈ شیلڈ کے اوپری حصے میں صرف **5.5 انچ (15 سینٹی میٹر)** تک محدود ٹنٹنگ کی اجازت دی گئی ہے۔

خلاف ورزی کی صورت میں:

* جرمانہ: **1,500 درہم**

اگر دبئی میں گاڑی مقررہ حد سے زیادہ ٹنٹ پائی گئی تو گاڑی ضبط بھی کی جا سکتی ہے، اور اسے واپس لینے کے لیے **10,000 درہم** ادا کرنا ہوں گے۔

دبئی پولیس نے جدید AI ریڈار سسٹم متعارف کرا دیا ہے جو رفتار، ریڈ سگنل، موبائل فون، سیٹ بیلٹ، لین کی خلاف ورزی اور غیر قانونی ونڈو ٹنٹنگ سمیت متعدد ٹریفک خلاف ورزیوں کو خودکار طور پر پکڑ سکتا ہے۔ بعض خلاف ورزیوں پر 3,000 درہم تک جرمانہ، 23 بلیک پوائنٹس اور 60 دن تک گاڑی ضبط کی جا سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں تاکہ جرمانوں سے بچنے کے ساتھ سڑکوں کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

یو اے ای میں موسم کا بڑا یوٹرن، شدید گرمی کے باوجود بارش، گرد آلود ہوائیں اور طوفانی موسم کی وارننگ جاری

متحدہ عرب امارات میں آئندہ چند روز کے دوران موسم میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (NCM) کے مطابق شدید گرمی برقرار رہے گی، تاہم دوپہر کے اوقات میں مختلف علاقوں میں بارش، گرد آلود ہوائیں اور گرج چمک والے بادل بننے کا امکان بھی موجود ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق یہ غیر مستحکم موسمی صورتحال آج سے شروع ہو کر **3 اگست (پیر)** تک جاری رہے گی۔ اس دوران روزانہ دوپہر کے وقت مشرقی، جنوبی اور بعض مغربی علاقوں میں بارش برسانے والے بادل بن سکتے ہیں، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں موسم زیادہ تر صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہے گا۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

این سی ایم کے مطابق مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بارش کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ ان میں فجیرہ، شارجہ کا مشرقی ساحلی علاقہ، ابوظہبی کے اندرونی اور جنوبی علاقے شامل ہیں، جہاں آئندہ دنوں میں مسلسل بادل بننے اور بارش ہونے کے امکانات موجود ہیں۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی مشرق سے آنے والے سطحی کم دباؤ کے نظام اور بالائی فضاء میں موجود کم دباؤ کے نظام کے باعث پیدا ہو رہی ہے، جو گرج چمک والے بادلوں کی تشکیل کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔

بارش کے باوجود گرمی کی شدت میں نمایاں کمی کی توقع نہیں ہے۔ پیش گوئی کے مطابق اندرونی علاقوں میں درجہ حرارت **43 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ**، ساحلی علاقوں میں **38 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ** جبکہ پہاڑی علاقوں میں **30 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ** کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

ہواؤں کی رفتار بھی موسم کو مزید غیر یقینی بنا سکتی ہے۔ جنوب مشرقی سے شمال مشرقی سمت چلنے والی ہوائیں عام طور پر **10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ** رہیں گی، تاہم بعض اوقات ان کی رفتار اندرونی علاقوں میں **45 کلومیٹر فی گھنٹہ** جبکہ ساحلی اور پہاڑی علاقوں میں **35 کلومیٹر فی گھنٹہ** تک پہنچ سکتی ہے۔

جب بارش والے بادل بنیں گے تو ان کے ساتھ چلنے والی تیز ہوائیں گرد اور ریت کو ہوا میں اڑا سکتی ہیں، جس کے باعث بعض علاقوں میں حدِ نگاہ عارضی طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

این سی ایم کے مطابق بحیرہ عرب (عربین گلف) اور بحیرہ عمان میں اس پورے عرصے کے دوران سمندر کی صورتحال نسبتاً پرسکون رہے گی اور لہریں معمولی رہیں گی۔

**جمعہ:**
مشرقی اور جنوبی علاقوں میں دوپہر کے وقت گرج چمک والے بادل بننے اور بارش کا امکان ہے۔ ہوائیں بعض اوقات **40 کلومیٹر فی گھنٹہ** تک چل سکتی ہیں جبکہ سمندر پرسکون رہے گا۔

**ہفتہ:**
موسم صاف سے جزوی ابر آلود رہے گا۔ دوپہر میں مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بادل بننے کا امکان ہے۔ ہواؤں کی رفتار **10 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ** رہے گی جبکہ جھکڑ **30 کلومیٹر فی گھنٹہ** تک پہنچ سکتے ہیں۔

**اتوار:**
ہفتے جیسا موسم برقرار رہے گا۔ مشرقی اور جنوبی علاقوں میں دوپہر کے وقت بارش برسانے والے بادل بن سکتے ہیں جبکہ ہوائیں **30 کلومیٹر فی گھنٹہ** تک چلنے کا امکان ہے۔

**پیر:**
غیر مستحکم موسم کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مشرقی اور جنوبی علاقوں میں دوبارہ بارش کا امکان ہے جبکہ ہواؤں کی رفتار **40 کلومیٹر فی گھنٹہ** تک پہنچ سکتی ہے، جس سے گرد اور ریت اڑنے کے باعث حدِ نگاہ متاثر ہو سکتی ہے۔

### **ایل نینو کے اثرات بڑھنے لگے**

این سی ایم نے اپنی موسمی رپورٹ میں بتایا ہے کہ **ایل نینو (El Niño)** کا نظام مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ادارے کے مطابق **جولائی سے نومبر 2026** کے درمیان **98 فیصد امکان** ہے کہ معتدل شدت کا ایل نینو برقرار رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق بحرالکاہل کے اہم **Niño 3.4** سمندری علاقے میں سطح سمندر کا درجہ حرارت معمول سے **1.2 ڈگری سینٹی گریڈ** زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر اسے **Moderate El Niño** قرار دیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس خطے کی مسلسل نگرانی کرتا ہے کیونکہ یہی خطہ ملک کے موسمی رجحانات پر نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے۔

این سی ایم کے مطابق **اگست سے دسمبر 2026** کے دوران متحدہ عرب امارات میں درجہ حرارت اور بارش دونوں معمول سے برابر یا اس سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ سال کے اختتام کی جانب ایل نینو کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی کے باوجود 3 اگست تک بارش، گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک والے بادلوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ این سی ایم کے مطابق مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بارش کے امکانات سب سے زیادہ ہیں جبکہ درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ تیز ہواؤں کے باعث گرد اور ریت اڑنے سے حدِ نگاہ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ایل نینو کے مضبوط ہونے کے باعث آئندہ مہینوں میں موسم میں مزید تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اگلی نیوز بھی پڑھیں

کویت میں ایرانی حملہ، چینی کمپنی کی عمارت نشانہ بن گئی، ایک شخص ہلاک، فوج ہائی الرٹ پر

کویت کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے میں واقع ایک چینی کمپنی کی عمارت ایرانی حملے کا نشانہ بنی، جس کے نتیجے میں ایک کارکن ہلاک جبکہ عمارت کو شدید مادی نقصان پہنچا۔

وزارتِ دفاع کے سرکاری ترجمان سعود العطوان کے مطابق واقعے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے اور مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر امدادی اور حفاظتی کارروائیاں انجام دی گئیں۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

وزارتِ دفاع نے حملے میں جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت یا حملے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم یہ واضح کیا گیا کہ تحقیقات اور متعلقہ کارروائیاں جاری ہیں۔

ترجمان سعود العطوان نے کہا کہ کویت کی مسلح افواج مکمل ہائی الرٹ پر ہیں اور ملک کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنے فرائض پوری طرح انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوج تمام متعلقہ حکومتی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ شہریوں اور ملک میں مقیم غیر ملکی باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

حکام کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ کویت میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق شمالی کویت میں ایک چینی کمپنی کی عمارت ایرانی حملے کا نشانہ بنی، جس کے نتیجے میں ایک کارکن ہلاک اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد حکام نے فوری ہنگامی کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ کویتی مسلح افواج کو مکمل ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، جس کے باعث خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔