پاکستانیوں سمیت یو اے ای میں رہنے والے تمام سوشل میڈیا صارفین ہو جائیں خبردار! لائیو نشریات کی ایک غلطی نے دو افراد کو قانونی کارروائی کی زد میں لا دیا

متحدہ عرب امارات کی نیشنل میڈیا اتھارٹی نے توہین آمیز مواد نشر کرنے پر دو افراد کے خلاف کارروائی کر دی، ایک کا میڈیا پرمٹ بھی تین ماہ کے لیے معطل، حکام نے سوشل میڈیا قوانین پر سخت وارننگ جاری کر دی۔

پاکستانیوں سمیت یو اے ای میں رہنے والے تمام سوشل میڈیا صارفین ہو جائیں خبردار! لائیو نشریات کی ایک غلطی نے دو افراد کو قانونی کارروائی کی زد میں لا دیا

متحدہ عرب امارات (UAE) میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے پاکستانیوں سمیت تمام رہائشیوں کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے۔ **نیشنل میڈیا اتھارٹی (National Media Authority – NMA)** نے سوشل میڈیا پر لائیو نشریات کے دوران توہین آمیز اور نامناسب مواد نشر کرنے پر دو افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

حکام کے مطابق دونوں افراد نے ایسا مواد نشر کیا جو اماراتی ثقافت، قومی شناخت، تہذیبی ورثے اور معاشرتی اقدار کے خلاف تھا۔ اسی وجہ سے ان کے خلاف قانونی اقدامات کیے گئے اور ایک شخص کا میڈیا اور تشہیری پرمٹ بھی تین ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

لائیو نشریات میں کیا ہوا؟

نیشنل میڈیا اتھارٹی کے مطابق دونوں افراد نے سوشل میڈیا پر لائیو براڈکاسٹ کے دوران ایسا مواد پیش کیا جو متحدہ عرب امارات کی ثقافت اور سماجی روایات کی توہین کے مترادف تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس مواد میں ملکی تہذیبی ورثے، قومی شناخت اور معاشرے میں رائج اقدار کا احترام نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے فوری قانونی کارروائی ضروری سمجھی گئی۔

تین ماہ کے لیے میڈیا پرمٹ معطل

اتھارٹی نے بتایا کہ قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ خلاف ورزی کرنے والے افراد میں سے ایک کا **پبلسٹی پرمٹ (Publicity Permit)** بھی **تین ماہ** کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

اس فیصلے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ سوشل میڈیا یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر قوانین کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

ویوز اور فالوورز کے لیے قوانین توڑنے کی اجازت نہیں

نیشنل میڈیا اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی مواد کو برداشت نہیں کرے گی جس کا مقصد صرف زیادہ ویوز، لائکس یا سوشل میڈیا انگیجمنٹ حاصل کرنا ہو لیکن اس کے نتیجے میں معاشرتی اقدار، قومی شناخت یا سماجی ہم آہنگی متاثر ہو۔

اتھارٹی نے مزید کہا کہ ایسا مواد جو معاشرے میں تنازع، اشتعال یا تقسیم پیدا کرے یا قومی اصولوں اور روایات کو نقصان پہنچائے، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

قانونی ماہرین کی مسلسل وارننگ

متحدہ عرب امارات کے قانونی ماہرین کئی مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کیا گیا ایک معمولی تبصرہ، پوسٹ یا لائیو ویڈیو بھی اگر ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرے تو وہ فوری طور پر پولیس کیس میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

اس لیے ہر صارف کو چاہیے کہ وہ آن لائن مواد شیئر کرتے وقت مکمل احتیاط کرے۔

سخت سزائیں بھی ہو سکتی ہیں

یو اے ای میں آن لائن بدنامی (Online Defamation) اور سائبر کرائم سے متعلق قوانین انتہائی سخت ہیں۔

قوانین کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں:

* **5 لاکھ درہم (AED 500,000) تک جرمانہ**
* **قید کی سزا**
* **غیر ملکی شہریوں کی ملک بدری (Deportation)**

جیسے سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

حکام نے تمام سوشل میڈیا صارفین کو درج ذیل اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے:

* تمام مذاہب اور عقائد کا احترام کریں۔
* متحدہ عرب امارات کے ثقافتی ورثے اور روایات کی عزت کریں۔
* قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچائیں۔
* ریاستی نظام اور اداروں کا احترام کریں۔
* دیگر ممالک کے ساتھ یو اے ای کے تعلقات کو متاثر کرنے والا مواد شائع نہ کریں۔
* افواہوں اور جھوٹی خبروں سے مکمل اجتناب کریں۔
* دوسروں کی ذاتی معلومات اور پرائیویسی کا احترام کریں۔
* ملکی قوانین اور سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
* ریاستی پالیسیوں اور سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی نہ کریں۔
* ہر قسم کی آن لائن سرگرمی کو قانونی دائرے میں رکھیں۔

یو اے ای میں میڈیا اور سوشل میڈیا سے متعلق اہم قوانین

متحدہ عرب امارات میں میڈیا اور آن لائن مواد کے لیے بنیادی طور پر دو اہم قوانین نافذ ہیں۔

1۔ میڈیا ریگولیشن قانون (Media Regulation Law)

یہ قانون ملک میں تمام میڈیا سرگرمیوں کو منظم کرتا ہے۔

اس کے تحت میڈیا اداروں اور افراد کے حقوق اور ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں تاکہ اظہارِ رائے کی آزادی ذمہ داری کے ساتھ استعمال کی جائے اور وہ معاشرتی اقدار یا ملکی قوانین سے متصادم نہ ہو۔

2۔ افواہوں اور سائبر کرائم کے خلاف قانون (Combating Rumors and Cybercrimes Law)

یہ قانون جھوٹی خبریں، افواہیں، آن لائن ہتک عزت، ریاست یا افراد کے خلاف الیکٹرانک ذرائع سے کیے جانے والے جرائم کو روکنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔

اس کا مقصد ریاست کی سلامتی، استحکام، عوامی اعتماد، افراد کی ساکھ اور نجی زندگی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

یو اے ای کی نیشنل میڈیا اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر لائیو نشریات کے دوران توہین آمیز مواد نشر کرنے پر دو افراد کے خلاف قانونی کارروائی کر دی ہے، جبکہ ایک شخص کا میڈیا پرمٹ بھی تین ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ویوز یا فالوورز بڑھانے کے لیے ایسا مواد ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا جو قومی شناخت، ثقافت یا معاشرتی اقدار کے خلاف ہو۔ قوانین کی خلاف ورزی پر پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ، قید اور غیر ملکیوں کی ملک بدری بھی ہو سکتی ہے۔

37 Comments

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔