یو اے ای کی تجارت 70 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تعلقات تیل اور سیاحت سے آگے بڑھ گئے
آسیان کے 59ویں یومِ تاسیس پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات تجارت اور سیاحت سے آگے بڑھ کر گرین انرجی، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شراکت داری تک پہنچ گئے۔

پاکستانیوں سمیت خلیجی کاروباری برادری کے لیے بڑی خبر! آسیان اور یو اے ای کی تجارت 70 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، اب تعلقات تیل سے آگے نئی معیشت کی جانب بڑھ گئے
**8 اگست** کو جنوب مشرقی ایشیا کی تنظیم **آسیان (ASEAN)** اپنے قیام کی **59ویں سالگرہ** منا رہی ہے۔ اس موقع پر تنظیم کے تمام **11 رکن ممالک** دنیا بھر میں اپنے سفارتی مشنز، بشمول متحدہ عرب امارات، میں آسیان کا پرچم لہرا رہے ہیں۔
آسیان کا قیام **1967** میں **بینکاک اعلامیے** کے تحت پانچ بانی ممالک نے عمل میں لایا تھا۔ بعد ازاں اس تنظیم میں مسلسل توسیع ہوتی رہی اور گزشتہ سال **تیمور لیستے** بھی باضابطہ طور پر اس کا رکن بن گیا، جس کے بعد رکن ممالک کی تعداد 11 ہو گئی۔
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪
ابتدائی طور پر آسیان کا مقصد خطے میں معاشی ترقی، سماجی بہتری اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ تنظیم دنیا کی اہم علاقائی اقتصادی اور سفارتی طاقتوں میں شمار ہونے لگی ہے۔
آسیان چارٹر کے تحت تنظیم کو بیرونی ممالک اور عالمی اداروں کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات استوار کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت آج آسیان کے **27 ممالک** اور **11 بین الاقوامی تنظیموں** کے ساتھ باضابطہ شراکت داری موجود ہے، جن میں متحدہ عرب امارات اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) بھی شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات اور آسیان کے تعلقات میں اہم پیش رفت **2010** میں اس وقت ہوئی جب یو اے ای نے آسیان کے لیے اپنا پہلا باضابطہ سفیر مقرر کیا۔ اس اقدام نے دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی روابط کو ایک نئی سمت دی۔
اس کے بعد **2022** میں متحدہ عرب امارات کو آسیان کا **Sectoral Dialogue Partner** بنایا گیا، جس سے دونوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ادارہ جاتی تعاون مزید مضبوط ہوا۔
اسی سال یو اے ای نے **Treaty of Amity and Cooperation in Southeast Asia** پر بھی دستخط کیے، جس کا مقصد خودمختاری، علاقائی سالمیت، باہمی احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت جیسے اصولوں کو فروغ دینا ہے۔
آسیان اور یو اے ای کے درمیان تعاون میں مزید تیزی اس وقت آئی جب **2024 تا 2028** کے لیے **Practical Cooperation Areas** کا روڈ میپ منظور کیا گیا۔
اس منصوبے کے تحت سیاسی، سیکیورٹی، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں عملی تعاون بڑھایا جا رہا ہے، جن میں سمندری تعاون، غذائی تحفظ، انسانی امداد، علاقائی رابطہ کاری اور دیگر اہم شعبے شامل ہیں۔
معاشی اعداد و شمار بھی اس شراکت داری کی کامیابی کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔
**2025** میں آسیان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مجموعی تجارت بڑھ کر **70 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 257 ارب درہم)** تک پہنچ گئی، جو دونوں خطوں کے درمیان تیزی سے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات کی جانب سے آسیان ممالک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا حجم **245.7 ارب امریکی ڈالر** تک پہنچ چکا ہے، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔
سیاحت کے شعبے میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں گزشتہ سال متحدہ عرب امارات سے **3 لاکھ 68 ہزار 969** سے زائد افراد نے آسیان ممالک کا سفر کیا۔
اب دونوں خطوں کے تعلقات صرف تجارت اور سیاحت تک محدود نہیں رہے بلکہ **گرین انرجی، صاف توانائی، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیٹا سینٹرز، سیمی کنڈکٹرز اور جدید ٹیکنالوجی** جیسے شعبے تعاون کا نیا مرکز بن چکے ہیں۔
آسیان اس وقت توانائی کے شعبے میں ماحول دوست تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اس سفر میں اہم سرمایہ کار اور شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
فلوٹنگ سولر پاور پلانٹس، صاف توانائی کے منصوبے اور قابلِ تجدید توانائی کے مختلف پروگرام اس تعاون کی نمایاں مثالیں ہیں۔
اسی طرح ڈیٹا سینٹرز اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبے میں بھی دونوں فریق ایک دوسرے کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے پاس سرمایہ، مصنوعی ذہانت کے بڑے منصوبے اور جدید ڈیجیٹل معیشت کا وژن موجود ہے، جبکہ آسیان ممالک کے پاس اعلیٰ معیار کی مینوفیکچرنگ صلاحیت اور تربیت یافتہ افرادی قوت دستیاب ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اشتراک مستقبل میں دونوں خطوں کو عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں مزید مضبوط اور خودمختار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آسیان اپنی 59ویں سالگرہ منا رہا ہے اور اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں۔ دونوں خطوں کے درمیان تجارت 2025 میں 70 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ یو اے ای کی سرمایہ کاری 245.7 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اب تعاون صرف تجارت اور سیاحت تک محدود نہیں بلکہ گرین انرجی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، سیمی کنڈکٹرز اور جدید ٹیکنالوجی تک پھیل چکا ہے، جو مستقبل میں دونوں خطوں کی معیشت کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
Keep it up 👏
Bohat achi baat hai
Zabardast kaam
Bohat umda
Bohat helpful hai
Love this ❤️
Acha kaam hai
Kafi useful hai
Yeh hui na baat
Great sharing
Great work 👍
Respect ❤️
Bohat zabardast effort
Good job 👌
Allah barkat de
Best hai 👍
Impressive 👏
Allah barkat de
Thanks for sharing
Kya baat hai
Bohat useful
Bohat hi informative
Helpful post
Good effort
Bohat pyari baat
Kafi achi info mili
MashAllah zabardast
Solid 👍
Kya baat hai
Interesting 👍
Bohat khoob
Maza aa gaya
Loved it ❤️
Thanks for sharing
Achi koshish hai
Achi sharing
Cool
👍👍
Dil se appreciate karta hun