آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی، ایڈنوک سے منسلک ٹینکر پر میزائل حملے کے بعد امارات کا ایران کو سخت پیغام

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز نشانے پر آگیا؛ متحدہ عرب امارات نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر حملے روکنے اور بحری راستہ کھولنے کا مطالبہ کردیا

متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ADNOC سے منسلک ایک تجارتی ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ حملہ ایران کی جانب سے کیا گیا اور واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

UAE وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ تجارتی ٹینکر پر حملہ ایک سنگین اقدام ہے اور یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔

موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں! ⚡
دوستوں کو شامل کریں، پوائنٹس جیتیں! 💪

متحدہ عرب امارات کے مطابق اس حملے نے بین الاقوامی بحری راستوں کی آزادی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اماراتی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ حملہ **اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817** کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وزارت کے مطابق مذکورہ قرارداد بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی حمایت کرتی ہے اور تجارتی جہازوں پر حملوں یا بین الاقوامی بحری راستوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کو مسترد کرتی ہے۔

UAE نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو دباؤ یا اقتصادی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں ایران کے **اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC)** پر بحری جہازوں کے خلاف ان اقدامات کو سمندری قزاقی سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایسی کارروائیاں خطے کے استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

UAE کے مطابق اس قسم کے حملوں کے اثرات صرف کسی ایک جہاز یا ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان سے خطے کے عوام کی سلامتی، علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کی سکیورٹی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

آبنائے ہرمز اتنا اہم کیوں ہے؟

آبنائے ہرمز خلیج کے علاقے کو خلیجِ عمان اور اس کے ذریعے بحیرہ عرب سے جوڑنے والا ایک انتہائی اہم بین الاقوامی بحری راستہ ہے۔

یہ راستہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ عالمی منڈیوں اور توانائی کی سپلائی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔

UAE نے اپنے بیان میں اسی صورتحال کو عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنے پر زور دیا ہے۔

UAE کا ایران سے فوری مطالبہ

متحدہ عرب امارات نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے تمام **مبینہ طور پر جارحانہ اور دشمنانہ حملے** بند کرے۔

UAE نے ایران پر زور دیا کہ وہ تمام جارحانہ کارروائیاں مکمل طور پر روک دے اور آبنائے ہرمز کو **غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولے**۔

اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا نہ صرف خطے کی سکیورٹی کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کے استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

UAE نے واضح کیا کہ تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ علاقائی اور عالمی سطح پر سنگین اقتصادی اور سکیورٹی خدشات پیدا کرسکتی ہے۔

عالمی توانائی سکیورٹی پر تشویش

آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت کے باعث یہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر خلیجی خطے سے باہر بھی محسوس ہوسکتا ہے۔

توانائی کی عالمی سپلائی کے لیے اہم سمندری راستے میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ سے عالمی تجارت، شپنگ اور توانائی کی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

اسی تناظر میں UAE نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے کو علاقائی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی اقتصادی استحکام سے بھی جوڑا ہے۔

حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں

اماراتی بیان کے مطابق ADNOC سے منسلک ٹینکر پر میزائل حملے کے باوجود کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

تاہم UAE نے تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کے واقعے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیا ہے اور ایران سے حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سکیورٹی، آزادانہ بحری نقل و حرکت اور عالمی توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو نمایاں کردیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ADNOC سے منسلک ایک تجارتی ٹینکر پر میزائل حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا، تاہم UAE نے اسے بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ وزارت نے کہا کہ یہ واقعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی خلاف ورزی ہے، جو بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور تجارتی شپنگ کے تحفظ کی حمایت کرتی ہے۔ UAE نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے حملے فوری طور پر بند کرے، تمام جارحانہ کارروائیاں ختم کرے اور آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولے۔ امارات کے مطابق آبنائے ہرمز کی سکیورٹی صرف خطے ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی کی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

38 Comments

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔