دبئی دنیا کی نئی سلیکون ویلی کے لیے موزوں ترین مقام قرار

دنیا کے معروف سائنسدان، مصنف اور پیشگو نے سستی زمین، کم ٹیکس اور کاروبار میں آسانی اس کی بنیادی وجہ بتادی

دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 14 جون 2023ء ) دبئی کو دنیا کی اگلی سیلیکون ویلی بننے کی پیشگوئی کردی گئی کیوں کہ لندن، ہانگ کانگ، نیویارک اور پیرس جیسے شہروں کے مقابلے دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں اس وقت دنیا میں سب سے سستی ہیں۔ اماراتی میڈیا کے مطابق سلیکون ویلی میں پلے بڑھے دنیا کے معروف مستقبل کے ماہر اور سائنس مصنف ڈاکٹر Michio Kaku نے نشاندہی کی ہے کہ دبئی اور سلیکون ویلی کے درمیان کافی مماثلتیں ہیں، جو دنیا کی بہت سی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا گھر ہے، جب میں دبئی سے آتا ہوں تو مجھے اپنا بچپن بہت یاد آتا ہے، میں سلیکون ویلی میں پلا بڑھا ہوں، جب میں ان اجزاء کو دیکھتا ہوں جنہوں نے سلیکون ویلی کو ممکن بنایا تو وہ سستی زمین، کم ٹیکس اور بہت سارے گریجویٹ طلباء ہیں، کمپنی شروع کرنا آسان، ناکام ہونا آسان لیکن کامیاب ہونا بھی آسان ہے، یہ وہ طریقہ ہے جب آپ اختراع کرنا چاہتے ہیں جب آپ تخلیقی بننا چاہتے ہیں۔
ADVERTISING
انہوں نے ٹیکنالوجی فرم ریڈنگٹن کے زیر اہتمام ری امیجن 2023ء سمٹ کے موقع پر کہا کہ نائٹ فرینک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں فی الحال لندن، ہانگ کانگ، نیویارک اور پیرس وغیرہ جیسے شہروں کے مقابلے میں دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں دنیا میں سب سے سستی ہیں، اسی طرح دبئی میں سب سے کم ٹیکس کی شرح اور لاگت ہے جب کہ نئی ویزا رجیم جیسا کہ 10 سالہ گولڈن ویزہ نے امارات کو کاروباری افراد کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے، سلیکون ویلی کی تشکیل کیسے ہوئی یہ جاننے کے لیے کسی ذہانت کی ضرورت نہیں ہے لیکن دنیا کے دیگر مقامات پر اسے دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے تاہم یہاں دبئی میں میں زبردست ترقی دیکھ رہا ہوں کیوں کہ یہاں جدت کا جذبہ ہے، تخلیقی صلاحیتیں اور نئی صنعتیں بغیر کسی چیز کے پیدا ہو رہی ہیں، میرے خیال میں اس قسم کی اخلاقیات ہی کمپیوٹر کے دور میں کامیابی کو ممکن بناتی ہیں۔
معروف سائنسدان نے کہا کہ دبئی 21 ویں صدی کی اس سے بھی بڑی سلیکون ویلی ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں مالیاتی شعبے، بڑے تفریحی شعبے بھی ہیں، یہ کمپیوٹر بنانے کی جگہ سے بڑھ کر ہے، تخلیقی ہونے اور باکس سے باہر کچھ کرنے کے لئے لوگوں کو خطرہ مول لینا پڑتا ہے، مثال کے طور پر جاپان میں خطرہ مول لینا ان کی روح میں ہے، سلیکون ویلی میں جب آپ کسی نوکری کے لیے انٹرویو دیتے ہیں تو ان میں سے ایک سوال یہ ہے کہ آپ کتنی بار ناکام ہوئے کیونکہ ناکامی کامیابی کے تانے بانے کا حصہ ہے اور یہ رویہ آپ کو بہت سی جگہوں پر نہیں ملتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button

Adblock Detected

ڈیلی گلف اردو میں خوش آمدید براہ کرم ہماری سائٹ پر اشتہارات چلنے دیں ایسا لگتا ہے کہ آپ اشتہار روکنے کیلئے ایڈ بلاکر یا کوئی اور سروس استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اپنی سائٹ کو چلانے کے لیے اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں۔ برائے مہربانی ڈیلی گلف اردو کی سپورٹ کریں اور اشتہارات کو اجازت دیں۔