مسلمانوں کے لیے انتہائی قابل احترام پتھر ‘حجراسود’ کے نئے مناظر منظر عام پر آگئے

سعودی حکومت کی جانب سے نئی فوٹو تیکنیک کی مدد سے حجر اسوس کی 1050 تصاویر لی گئی ہیں۔ اس طرح نظر آنے والے مناظر اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔

تفصیلات کے مطابق حجر اسود کو اللہ کی زمین پر بھیجی جانے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی مانا جاتا ہے۔ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوران طواف ایک مرتبہ ضرور اس مقدس پتھر کا بوسہ لے۔ اس پتھر کا بوسہ لینے والے شخص کو انتہائی خوش نصیب مانا جاتا ہے۔ کورونا وائس کے بعد سے تو حجر اسود کا بوسہ لینے کی کسی کو اجازت ہی نہیں ہے۔ تاہم حریمین شریفین انتظامیہ نے حجر اسود کی ایسی شاندار تصاویر شائع کی ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔

خبر جاری ہے۔۔۔

ان تصاویر کو اتارنے کے لیے جدید ترین تکنیک فوکس سٹیک پینوراما کا استعمال کیا گیا ہے۔ جس کے ذریعے حجر اسود کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس تیکنیک کے تحت تصاویر اتارنے میں 7 گھنٹے کا وقت درکار تھا۔ جس دوران حجر اسود کی 1050 تصاویر اتاری گئی ہیں۔ ان تصاویر کی خاصیت ان کی 49 ہزار میگا پلسلز ریزولیوشن ہے۔ جس کے پراسس میں 50 گھنٹے سے زائد کا وقت لگا۔ یاد رہے کہ خانہ کعبہ کے مشرقی کونے میں باہر کی جانب حجر اسود نصب کیا گیا ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

یہ وہی مقام ہے جہاں سے طواف کا آغاز اور اختتام ہوتا ہے۔ اسے کعبہ کے ساتھ ڈیڑھ میٹر کی اونچائی پر نصب کیا گیا ہے۔ اس پتھر کا رنگ سرخی مائل سیاہ ہے۔ جب کہ اس کا اندرونی حصہ پیالے کی مانند دکھتا ہے۔ جسے خالص چاندی کے فریم میں رکھا گیا ہے۔ اس فریم کی وجہ سے اس کی شکل بیضوی دکھتی ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!