سعودی عرب: عدالت نے بچی کی کرنٹ لگنے سے ہلاکت کے معاملے پر اہم فیصلہ سنا دیا، ملزمان کو کیا سزا سنائی؟ یہاں جانیے

بچی کو کرنٹ لگنے سے ہلاکت کے معاملے پر سعودی عرب کی مقامی عدالت نے بلدیہ کے 4 سرکاری ملازمین کو قید کی سزا سنادی ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان کو بچی کی والدہ کو ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں آئے روز گلی محلوں میں بجلی کی تاروں کو چھو کر یا بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ آنے کی وجہ سے متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ تاہم پاکستان میں آج تک کسی بجلی کے محکمے کے اہلکار یا ذمہ دار کو سزا نہیں دی گئی ہے۔ سزا تو درکنار ایسے معاملات میں کوئی عذر بھی پیش نہیں کیا جاتا۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب کی مقامی عدالت نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے جس میں نو سالہ سعودی بچی کی کرنٹ لگنے سے ہلاکت کے معاملے پر ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے اور بلدیہ کے 4 سرکاری ملازمین کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

یاد رہے کہ 2 سال قبل جنی الشہری نامی 9 سالہ سعودی بچی کی بجلی کے کھمبے میں کرنٹ آجانے کی وجہ سے ہلاکت ہوگئی تھی۔ بچی کی ہلاکت کے معاملے پر والدین کی جانب سے حکومت کی مدعیت میں مقدمہ درج کروایا گیا۔ جس میں بلدیہ کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ بچی کی والدہ نے ڈیلی گلف اردو کو بتایا کہ عدالت کی جانب سے بلدیہ کو معاوضہ ادا کرنے کا کہا گیا تھا تاہم بلدیہ کی جانب سے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

حالانکہ کہ کوئی بھی معاوضہ ان کی بیٹی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب بچی کے چچا عبداللہ الشہری کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ثابت ہوا ہے کہ موت کی وجہ بجلی کا جھٹکا لگنا ہے۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ تب پیش آیا تھا جب مملکت میں 88 ویں قومی دن کی ایک تقریب چل رہی تھی۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!