مسجد نبوی انتظامیہ کی تاریخ کی سنگین غلطی، نماز فجر میں 45 منٹ تاخیر، سعودی حکومت نے غفلت برتنے پر ذمہ داران کو سخت سزا سنادی

مسجد نبوی کی تاریخ میں سنگین غلطی سامنے آگئی۔ نماز فجر کی ادائیگی میں 45 منٹ تاخیر پر مؤذن، آئمہ کرام انتظامیہ کے ڈائریکٹر اور سیکرٹری کو سعودی حکومت نے ملازمت سے فارغ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق مسجد نبوی کی انتظامیہ نے تاریخ کی سنگین ترین غلطی کردی۔ نماز فجر کی ادائیگی میں 1 یا 2 نہیں بلکہ پورے 45 منٹ کی تاخیر کردی۔ مسجد نبوی کو مسلم امہ کو مسجد الحرام کے بعد دوسرا مقدس ترین مقام حاصل ہے۔ جہاں کورونا کی موجودہ صورتحال میں بھی نمازیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ تاہم 9 جون بروز بدھ کو انتظامیہ کی جانب سے تاریخ کی سنگین ترین غلطی سرزد ہوئی ہے۔ جہاں نماز فجر کی نماز میں 45 منٹ کی تاخیر کی گئی۔

سنگین ترین غلطی سے نمازی شدید اضطراب کا شکار ہوگئے۔ جس پر حکومت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے لاپروائی برتنے اور سنگین غفلت کا مظاہرہ کرنے پر 2 عہدیداروں کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس جو کہ حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے سنگین غفلت برتنے پر سخت نوٹس لیا ہے اور سستی کا مظاہرہ کرنے پر 2 عہدیداروں کو ملازمت سے فارغ کردیا ہے۔ ان افراد میں ایک آئمہ کے ڈائریکٹر اور دوسرے مؤذن کے سیکرٹری شامل ہیں۔

اس وقت مساجد کی انتظامیہ کے سربراہ اعلیٰ کے سیکرٹری کو یہ اضافی عہدے سونپ دیے گئے ہیں۔ سربراہ اعلیٰ اداروں کی تنظیم نو کا کام بھی سرانجام دیں گے۔ ڈاکٹر سدیس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقیاتی پروگرام کے وژن 2024 کے تحت کسی کی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بیان میں تمام ارکان کو اپنا کام احسن طریقے سے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ غفلت اور کوتاہی پر کڑا احتساب عمل میں آئے گا۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!