قوم کی بیٹی اور نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے خلاف اشتعال انگیزی، قتل کی دھمکیاں دینے والا مذہبی رہنما قانون کے ہتھے چڑھ گیا

مفتی سردار علی حقانی نے اپنے ایک بیان میں ملالہ یوسفزئی پر خودکش حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس کے علاوہ لوگوں کو بھی اشتعال انگیزی پر اکسایا تھا۔

تفصیلات کے مطابق نوبیل انعام جیت کر قوم کا سر فخر سے بلند کرنے والی ملالہ یوسفزئی کو قتل کی دھمکی دینے والا مذہبی رہنما مفتی سردار علی حقانی قانون کے ہتھے چڑھ گیا۔ بتایا گیا ہے کہ مذہبی رہنما نے ملالہ کو خود کش حملے کی دھمکی دی تھی۔ جس پر لکی مروت پولیس فوری حرکت میں آئی اور انہوں مقامی رہنما کو گرفتار کرلیا۔ جس کی ڈی پی او لکی مروت پولیس نے تصدیق کردی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم کے خلاف انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کردیا گیا ہے۔

جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ملزم کو سٹیج پر اشتعال انگیز تقریر کرتے سنا جاسکتا ہے۔ جس میں ملزم لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے اور ملالہ پر حملہ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملزم نے ملالہ پر خودکش حملہ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اشتعال انگیز تقریر کی وجہ سے علاقے میں نقص امن کا خطرہ ہے۔

یاد رہے کہ مفتی سردار علی حقانی کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے ریاست مخالف بیانیہ جاری کیا ہو۔ ملزم کی لاتعداد ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ ایک ویڈیو میں وہ کورونا روک تھام کے اقدامات پر حکومت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس ویڈیو کی وجہ سے بھی انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملزم نے ایک بیان میں خواتین طبی عملے کے خلاف بھی نامناسب الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!