پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا؟ گرے لسٹ سے نکالے جانے یا پرانا حیثیت برقرار رکھنے کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے بڑے سرجوڑکر بیٹھیں گے

پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے یا پھر گرے لسٹ میں رہنے کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔پاکستان کے گرے لسٹ سے نکالے جانے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اہم اجلاس پیر سے شروع ہورہا ہے۔ کیا پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہوجائے گا یا نہیں؟ ساری دنیا کی نظریں اس ایک سوال کے جواب کی وجہ سے اس اجلاس کی جانب مبذول ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 4 روز تک جاری رہے گا جس کے اختتام پر پاکستان سمیت دیگر ممالک کے گرے لسٹ سے نکالے جانے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

خبر جاری ہے۔۔۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2020 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے ایکشن پلان کو سراہا تھا لیکن دہشتگردی میں مالی معاونت کے حوالے سے 6 نکات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے اسے فروری 2021 تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا تھا۔ تاہم اب پاکستان بقیہ 6 نکات پر بھی عمل کرچکا ہے جس کی تفصیل ایف اے ٹی ایف حکام تک پہنچائی جاچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف اراکین پاکستان میں قانون سازی اور سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان کے تفصیلی جواب پر ایف اے ٹی ایف حکام کی جانب سے ڈومور کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس لیے اس مرتبہ بھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ مطالبہ ڈومور ہی رہتا ہے یا پھر پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیصلہ جو بھی ہوا وہ اراکین کی باہمی رضامندی سے ہی ہوگا۔

خبر جاری ہے۔۔۔

ڈیلی گلف اردوسے ایک عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بات کی۔ اس نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کو جمع کروائی گئی رپورٹ پر کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ حتمی فیصلے کے لیے مقررہ دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ عہدیدار نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کے اٹھائے گئے اقدامات کو بہت سراہا گیا ہے۔ اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے پر کامیاب ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ جون 2018 سے پاکستان گرے لسٹ میں ہے اور اس سے نکلنے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ پاکستان نے متعدد انتہاپسند جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور متعدد افراد کو سزائیں بھی دی ہیں۔

خبر جاری ہے۔۔۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!