عوام تک خالص دودھ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرلیا، آپ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں!

وزیراعظم عمران خان نے عوام کو خالص دودھ کی بڑے پیمانے تک فراہمی کا بڑا منصوبہ شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ جس کا افتتاح ساہیوال میں کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں خالص دودھ کی دستیابی ایک اہم اور سنگین مسئلہ ہے۔ جس پر کبھی کسی حکومت نے دھیان نہیں دیا۔ عام طور پر بازاروں میں ملنے والا دودھ اول تو پانی ملا ہوتا ہے اور اب تو دولت کے پچاری گوالے نت نئے طریقوں سے دودھ کی پیداوار بڑھاتے ہیں۔ جس پر فوڈ اتھارٹی ایکشن لیتی رہتی ہے اور ہزاروں لیٹر دودھ روزانہ کی بنیاد پر تلف بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم اصل وجہ دودھ کی طلب اور رسد میں کمی ہے۔ جس کو پوران کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے ایک بڑے منصوبے کی منظوری دیدی ہے۔ ساہیوال میں بدھ 5 مئی کو اس منصوبے کا افتتاح کیا جائے گا۔ جس کے تحت زیادہ دودھ دینے والے جانوروں کی ملک میں بریڈنگ کی جائے گی۔

خبر جاری ہے۔۔۔

اس منصوبے کے تحت حکومت ایک خطیر رقم کے سیمنز آئندہ 3 سالوں میں درمیانے درجے کے کسانوں میں مفت فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کی مالیت تقریبا 40 ارب روپے بنتی ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیکیورٹی جمشید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت دودھ کی پیداوار 59 ملین لیٹر ہے۔ پاکستان میں 4 کروڑ 90 ہزار جانوروں کی موجودگی میں یہ تعداد بہت کم ہے۔ اس تناسب سے دودھ کی اوسط پیداوار صرف 3 سے 4 لیٹر بن رہی ہے۔ اس طرح ایک گائے 1100 لیٹر کے لگ بھگ دودھ دیتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک جیسے آسٹریلیا میں گائے کی ایوریج 7 ہزار لیٹر اور امریکا میں 11 ہزار لیٹر ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم ترقی کے میدان میں کتنا پیچھے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئے منصوبے کے تحت گائے سے 5 ہزار لیٹر کے لگ بھگ دودھ حاصل کیا جاسکے گا۔ جس سے پیداواری صلاحیت بھی 3 گنا تک بڑھنے کا امکان ہے۔ منصوبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ ملکر یہ منصوبہ شروع کیا ہے۔ جس کے تحت آئندہ 3 سالوں میں محکمہ لائیوسٹاک کسانوں میں 40 ارب روپے کے امپورٹڈ سیمنز مفت تقسیم کرے گا۔ انہوں نے کہا اس طرح عوام اور کسان دونوں کا فائدہ ہوگا۔ عوام کو خالص دودھ ملے گا اور کسان کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔ دودھ کی پیداوار بڑھنے سے اس سے متعلقہ ایکسپورٹس بڑھانے کا بھی موقع ملے گا۔ یاد رہے کہ اس وقت ملکی میں دودھ سے بنی مصنوعات کی 25 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کے مواقع موجود ہیں۔ وفاقی حکومت کا منصوبہ ان ایکسپورٹس کو بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!