پاکستانی وزیراعظم عمران خان طالبان کو شراکت اقتدار پر راضی کرنے کی کوشش کریں گے

وزیراعظم عمران خان نے یہ قدم خطے میں افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک سے ہونے والی میٹنگ کے بعد اٹھایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران نے کہا ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات کریں گے اور انہیں شراکت اقتدار پر راضی کریں گے۔ جس کا مقصد نہ صرف افغانستان میں بلکہ خطے میں امن کو یقینی بنانا ہے۔ عمران خان نے ہفتے کو ٹوئٹ کیا ہے کہ انہوں نے یہ قدم تاجکستان کے شہر دوشنبہ میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیڈرز سے ہونے والی میٹنگ کے بعد اٹھایا ہے۔

مزید تفصیلات جاںيے۔۔۔

طالبان نے گزشتہ ہفتے اپنی قائمقام حکومت کا اعلان کیا ہے۔ جس میں نہ کسی خاتون کو اور نہ ملک کی کسی اقلیت کو نمائندگی دی گئی ہے۔ حالانکہ اقتدار میں آنے سے قبل وہ یہ سب اقدامات اٹھانے کا اعلان کررہے تھے۔ اس سے قبل 1990 میں اپنی حکومت کے دوران بھی طالبان خواتین کے حقوق کو بری طرح پامال کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی تاجکستان کے صدر امومالی رحمان سے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی میٹنگ کی سائیڈ لائن میں تفصیل سے بات ہوئی ہے۔ اکنامک اور سیکیورٹی گروپ چین، رشیا، قزاقستان، قرغزستان، تاجکستان، ازبکستان، بھارت اور پاکستان پر مشتمل ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ دوشنبہ میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیڈرز کے ساتھ میٹنگ اور خاص طور پر تاجک صدر سے ہونے والی طویل گفتگو کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ طالبان سے مشترکہ افغان حکومت پر بات کریں گے۔ جس میں تاجک، ہزارہ اور ازبک بھی شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ 4 دہائیوں پر محیط اختلافات کے بعد افغانستان کی جانب سے خطے میں امن کی جانب قدم ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سے فورم استعمال کریں گے اور ان کا منصوبہ کیا ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!