پاکستان نے ملکی راز محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لےلیا، ہیکنگ سے بچانےکے لیے خصوصی ایپلی کیشن کی تیاری شروع کردی

حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی وزراء اور حساس عہدوں پر تعینات افسران کو ہیکنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے ایپلی کیشن کی تیاری کی جارہی ہے۔ جس کا استعمال عوامی سطح پر نہیں ہوگا۔ ایپلی کیشن چند ماہ میں تیار کیے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے ملک دشمن قوتوں کی جانب سے سائبر حملے سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر ایک ایپلی کیشن تیار کی جا رہی ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ایپلی کیشن کو عوامی سطح پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس کا استعمال صرف اہم حکومتی وزراء اور دیگر حساس اداروں کے افسران ہی کرسکیں گے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپلی کیشن کی تیاری چند ماہ میں مکمل کرلی جائے گی۔

بتایا گیا ہے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس ایپلی کیشن پر 60 فیصد تک کام مکمل کرلیا ہے۔ اس کی تیاری کے بعد ملک دشمن قوتوں کی جانب سے ہیکنگ کے مسائل سے محفوظ رہا جاسکے گا۔ بتایا گیا ہے کہ نئی ایپلی کیشن واٹس ایپ کی طرز پر تیار کی جارہی ہے لیکن اسے کوئی غیرملکی استعمال نہیں کرسکے گا۔ یاد رہے کہ یہ اقدام اسرائیل کی نجی کمپنی کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک کی اہم شخصیات کے موبائل فون ہیک کیے جانےکے انکشاف کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سمیت دیگر اداروں نے ایک مشترکہ تحقیق سے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی نجی کمپنی نے کم از کم ایک ہزار اہم حکومتی عہدیداروں، وزرائے اعظم اور یہاں تک کے بہت سے صحافیوں کے موبائل فون ہیک کرکے ان کے ڈیٹا کو چیک کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ جن موبائل فونز کو ہیک کیا گیا ان میں ترکی میں قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے دو رشتے دار بھی شامل ہیں۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!