‘ڈی جی آئی ایس پی آر نے باتوں باتوں میں حکومت کو کیسا اشارہ دیدیا’ سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو پاکستانی حالات کس سمت جاتے نظر آرہے ہیں؟

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ہونے والی پریس کانفرنس پر تجزیہ کرتے ہوئے سینئر صحافی سمیع ابراہیم نے بہت سے اہم انکشافات کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملک کا سیاسی درجہ حرارت سینیٹ انتخابات کی وجہ سے اپنے نقطہ عروج پر ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے ہیں جس کے بعد چہ میگوئیاں یہ ہورہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے حکومت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور اب وہ دوبارہ پرانے چہروں کی جانب جارہے ہیں۔ تاہم گزشتہ روز ہونے والی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس پر سینئر صحافی سمیع ابراہیم نے اہم تجزیہ کرتے ہوئے انکشافات کیے ہیں۔

خبر جاری ہے۔۔۔

انہوں نے کہا ہے کہ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر نہیں رہی ہے۔ اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے تمام الزامات کی نفی کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بابرافتخار سے نیشنل ایکشن پلان بارے سوال کیا گیا کہ اس پر سول حکومت کام کب کرے گی؟ اس سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ردعمل میں کہا تھا ‘کام ہورہا ہے، بہت اچھی رفتار سے ہورہا ہے،ہم مطمئن ہیں اور بہت جلد وہ کام ہوجائے گا۔’

خبر جاری ہے۔۔۔

سینئر صحافی کی نظر میں یہ تبدیلی سرکار پر اعتماد کا اشارہ تھا کہ سول و عسکری قیادت میں کوئی خلش نہیں ہے۔ دوسری جانب میجر جنرل بابر افتخار نے جنرل آصف غفور بارے کیے جارہے پروپیگنڈے کی سختی سے تردید کردی۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں تقرریاں قلیل مدت کے لیے نہیں ہوتیں۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا اگلے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل آصف غفور ہیں؟ جس پر انہوں نے ردعمل دیتے ہوئے ایسی خبروں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ ایسے بےمعنی پروپیگنڈوں پر دھیان مت دیں۔

خبر جاری ہے۔۔۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!