ٹیکس نوٹس کو ہلکا لینے کی غلطی نہ کریں، یکم جولائی سے کسی کی خیر نہیں، وزیرخزانہ نے ٹیکس چوروں کو خبردار کردیا

وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ جو لوگ اب ٹیکس نوٹس کو نظر انداز کریں گے انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ٹیکس چور کسی ٹیکس نوٹس کو ہلکا لینے کی غلطی نہ کریں۔ نہیں تو ان کی خیر نہیں۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹیکس نوٹس نظرانداز کردیا جاتا تھا۔ لیکن اب ایسا کرنے والوں کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ یکم جولائی سے نئے مالی سال کے ساتھ ہی نئے قوانین پر عملدرآمد شروع کردیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی پالیسی بہت واضح ہے۔ کسی ٹیکس چور کو نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے اپنے بیان میں پچھلی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ حکومتیں اتنی اچھی تھیں تو پھر 20 ارب ڈالر کا خسارہ کیسے ہوگیا؟ پاکستان کے پاس ڈالر چھاپنے کی کوئی مشین نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری تھی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ پر تنقید کرنے والے باز آجائیں نہیں تو پچھلی حکومتوں کا کچا چٹھا کھول دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار بجٹ میں غریب عوام اور خاص طور پر کسان کا خیال کیا گیا ہے۔ غریبوں کو سستے مکانات کے لیے قرض جبکہ کسانوں کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ بڑھ رہی ہیں اور ہاؤسنگ انڈسٹری ٹیک آف کرنے کو تیار ہے۔

اس ایک انڈسٹری سے 40 مزید انڈسٹریز وابستہ ہیں۔ اپوزیشن عمران خان کے وژن کو کچھ تو کریڈٹ دے۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کو خواب نہیں بلکہ تعبیر دکھانے جارہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسانوں کو قرض دے رہے ہیں تاکہ زراعت بڑھے۔ حکومتی وژن کی وجہ سے اکانومی بہتر ہونے لگی ہے اور ان کا ہدف ایکسپورٹس کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بجٹ کو سیاسی رنگ نہ دے۔ مہنگائی کی بڑی وجہ ملک میں گندم اور چینی کی قلت ہونا ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!