عمران خان اور جہانگیر ترین میں دوریاں: کون پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے؟

ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی جانب سے جہانگیر ترین سے رابطے کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تاہم جہانگیر ترین کے انکار کی وجہ سے ان کے خلاف مہم چلائی جانے لگی۔

تفصیلات کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھانا اور ناموافق حالات کو اپنی جماعت کے لیے موافق بنا لینا ہی سیاست کا حسن ہے۔ ایسا ہی آج کل کچھ پی ٹی آئی کی جماعت کے ساتھ ہوتا نظر آرہا ہے۔ جن کے اندرونی اختلافات منظر عام پر آنے کے بعد ان کی سیاسی حریف جماعتوں (ن لیگ اور پیپلز پارٹی) نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے ن لیگ نے اہم تحریک انصاف رہنما جہانگیر ترین سے لندن میں ملاقات کا پیغام بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

یہ پیغام حسین نواز کے ہاتھ بھیجا گیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان میں شہباز شریف بھی سرگرم ہیں۔ یہی نہیں مفاہمت کے گرو آصف علی زرداری نے بھی جہانگیر ترین سے ملاقات کی کوشش کی ہے۔ تاہم ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جہانگیر ترین کی جانب سےملاقات سے انکار اور وفاداری نہ بدلے جانے پر ان کے خلاف مہم شروع کردی گئی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جہانگیر ترین کے لندن میں قیام کے دوران ایک لندن پلان ترتیب دیا گیا تھا۔ جس کے تحت ن لیگ ان سے پنجاب میں ان کے ساتھیوں کا تعاون مانگ رہی تھی۔

خبر جاری ہے۔۔۔

شہباز شریف پاکستان میں معاملات طے کررہے تھے جبکہ نواز شریف کی جانب سے تمام معلومات خفیہ رکھنے کا کہا گیا تھا۔ تاہم جہانگیر ترین نے یہ کہہ کر ملنے سے انکار کیا کہ جس کی نااہلی میں کردار ادا کیا اس سے کیسے مل سکتا ہوں اور اب ان کی وفاداری تبدیل کرنے کی عمر بھی نہیں ہے۔ دوسری جانب سینیٹ الیکشن کے دوران پیپلز پارٹی نے بھی جہانگیر ترین سے رابطے کیے اور یہ رابطے ابھی تک جاری ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کے اختلافات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!