امارات میں مقیم پاکستانی بغیر لائسنس سوشل میڈیا پر سامان فروخت نہ کریں، 1 لاکھ درہم جرمانہ ہوگا

اگرآپ امارات میں مقیم ہیں اور سوشل میڈیا پر کپڑے جوتے، پرفیومز، دستکاری آئٹمز یا کچھ بھی سامان فروخت کرنا چاہتے ہیں تو ایک چیز جان لیجیے کہ بغیر لائسنس حاصل کیے اپنا یہ آن لائن بزنس چلانا آپ کو اتنا بھاری پڑے گا کہ اگلے کئی سال تک آپ مالی تنگی کاشکار رہیں گے۔ دُبئی کے معروف وکیل محمد گمال کا کہنا ہے کہ جو ویب سائٹ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے سامان فروخت کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے امارات کی مجاز اتھارٹی سے لائسنس حاصل کر لیں ورنہ ان پر بہت بھاری جرمانہ عائد ہو گاجو ایک لاکھ درہم تک بھی ہو سکتا ہے۔

محمد گمال نے بتایا کہ دُبئی میں کاروباری سرگرمیوں سے متعلق 2011ء کے قانون نمبر 13 کی شق 6 کے مطابق کوئی بھی شخص کاروبار شروع کونے سے پہلے اکنامک ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے لائسنس حاصل کرے گا۔ اس اجازت نامے میں کاروبار سے متعلق شرائط و ضوابط درج ہوں گے، جن پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس قانون کے مطابق بغیر لائسنس کاروبار کرنے والوں پر کاروباری سرگرمی کے حساب سے 100 درہم سے 1 لاکھ درہم تک کا جرمانہ عائد ہوگا۔ آپ سوشل میڈیا کے ذریعے چاہے کوئی چاکلیٹ ہی کیوں نہ بیچنا چاہتے ہوں، یا کوئی ہاتھ کے بنے زیورات ہوں ، جن کی آج کل بہت ڈیمانڈ ہے، آپ کو پہلے مطلوبہ لائسنس حاصل کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل امارات کے ایک سائبر سیکیورٹی ماہر نے خبردار کیا تھا کہ سوشل میڈیا اور ای میل پر آن لائن شاپنگ اور ڈیٹنگ سے متعلق پیغامات پر خبردار رہے ہیں۔ امارات میں آن لائن شاپنگ کے لیے کئی ایسی اسکیمز بھی سامنے آ رہی ہیں، جو دھوکا دہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ان لنکس پر سوچ سمجھ کر کلک کریں کیونکہ کچھ ہیکرز اور نوسرباز بھی پرکشش اور بارعایت شاپنگ کا جھانسہ دے کر لوگوں کے موبائل فونز ہیک کر رہے ہیں۔کچھ ایسے پیغامات بھی آتے ہیں جن میں حسیناؤں کی جانب سے ویلنٹائن ڈے پر رومانوی ملاقات کی آفرز بھی کی جاتی ہیں۔ ان سے ہوشیار رہنا ہو گا۔ کئی افراد ایسے بھی ہیں جو اپنے دفتری کاموں کے لیے دیئے گئے موبائل فونز کا ذاتی استعمال بھی کرتے ہیں یا لیپ ٹاپ استعمال لاتے ہیں، ان ڈیوائسز میں ان کی تمام تر آفیشل معلومات اور ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی پرکشش آفر کے جھانسے میں آ کر کلک کر بیٹھے تو ہیکرز کی ان کی ڈیوائس کے تمام تر ذاتی اور دفتری ڈیٹاتک رسائی ہو جائے گی۔ جس سے ان کے لیے بعد میں بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق امارات میں 87 فیصد افراد امارات کی ڈیوائسز کا ذاتی استعمال کرتے ہیں۔ کئی بار جرائم پیشہ لوگ خود کو خواتین ظاہر کر کے لوگوں کو خوب جھانسہ دیتے ہیں اور ان سے بڑی بڑی رقمیں بھی اینٹھ لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس متاثرہ شخص کی کچھ ایسی تصاویر یا ویڈیوز آ جاتی ہیں، جن کی بناء پر وہ خاموش رہنا ہی مناسب سمجھتے ہیں۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!