بینک کا قرضہ ادا کئے بغیر امارات سے واپس جانے پر کیا ہو گا؟

امارات میں اگر کوئی مالیاتی ادارہ یا بینک کسی شخص کو قرضہ دیتا ہے تو اس کے بدلے میں ضمانت کے طورپر ایک یا زائد چیک رکھوائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرض کے معاہدے میں بھی نادہندہ ہونے کی صورت میں مختلف قانونی کارروائیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی شخص بینک قرضے یا کریڈٹ کارڈ کے بل کی مسلسل تین اقساط جمع نہیں کراتا یا پھر مجموعی طور پرچھ اقساط جمع نہیں کراتا تو پھر اسے ڈیفالٹ تصور کیا جاتا ہے، جس کے بعد اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اماراتی سنٹرل بینک کی پالیسی کے مطابق اگر کوئی شخص بینک قرضے کی اقساط، سُود کی رقم یا دیگر واجبات جمع نہیں کراتا ، اور اس کے پاس ایسا کرنے کے لیے کوئی عدالتی عذر بھی نہیں ہوتا توڈیفالٹ ہونے کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

بینک کے قرض نادہندہ یا کریڈٹ کارڈز کے بل کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں ڈیفالٹ کر جانے کے بعد بینک اس شخص کی جانب سے ضمانت کے طور پر دیئے گئے چیک کواس کے اکاؤنٹ میں بھیجتا ہے۔ اگر یہ سیکیورٹی چیک رقم نہ ہونے کے باعث ڈس آنر ہوجائے تو اس کے بعد قرض نادہندہ کے خلاف کریمنل کیس درج کروایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ امارات میں چیک ڈس آنر ہونا ایک مجرمانہ سرگرمی قرار دی جاتی ہے۔ اماراتی قوانین کے مطابق اگر کوئی چیک ڈس آنر ہو جائے تو پھر جیل یا جرمانے کی سزا بھُگتنا پڑ سکتی ہے۔

مجرمانہ سرگرمی کی شکایت درج ہونے کی صورت میں امارات سے باہر سفر کرنے پر پابندی عائد ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص امارات سے باہر جانے کے بعد بینک قرضے کی عدم ادائیگی کی بناء پر ڈیفالٹ ہو جاتا ہے تو پھر ایسی صورت اس کے امارات واپس آنے پر پابندی لگ جائے گی۔
اگر سیکیورٹی چیک کی رقم دو لاکھ درہم سے کم ہے تو ایسی صورت میں جرمانہ عائد ہو گا، اس جرمانے کی رقم چیک میں درج رقم کے مطابق 2ہزار درہم سے 10 ہزار درہم کے درمیان ہو گی۔ جرمانے کی رقم ادا کرنے کی صورت میں امارات سے باہر جانے پر پابندی ہٹائی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ بینک آپ سے قرض کی بقیہ رقم کی وصولی کے لیے سول کیس بھی دائر کر سکتا ہے۔ اگر آپ مملکت سے باہرمقیم ہیں تو بینک عدالت میں درخواست دائر کر کے آ پ کے مملکت میں دوبارہ داخلے پر پابندی لگوا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!