”میرا خاوند مجھے قید کر کے پیشاب پینے پر مجبور کرتا رہا، میرا دانت توڑ ڈالا اور جسم بھی جلا ڈالا“ دُبئی کی عدالت نے ظالم شخص کو 15 ماہ قید کی سزا سُنا دی

دُبئی کی عدالت نے ایک شخص کو اپنی بیوی کی مارپیٹ کرنے، اسے قید کیے رکھنے اور بدسلوکی کے الزامات ثابت ہونے پر پندرہ ماہ قید کی سزا سُنا دی ہے اور اس پر 1 لاکھ 79 ہزار درہم کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔عرب مجرم کو سزا کی مُدت پوری ہونے کے فوراً بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم اپنی بیوی کو گھر پر قید رکھ کر تشدد کا نشانہ بناتا رہا تھا، جس دوران وہ مختلف اوزاروں کا بھی استعمال کرتا رہا۔ یہاں تکہ کہ اس نے اپنی بیوی کو پیشاب پینے پر بھی مجبور کیا۔ ملزم اپنی بیوی کو بجلی کی تار سے مارتا تھا اور نوکیلے اوزار گرم کر کے اس کی جسم پرلگاتا تھا، جس سے خاتون کے جسم کی چمڑی پر نشانات پڑ گئے تھے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس کے عرب خاوند نے اسے گھر پر بند کر کے متعدد بار بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ساتھ انتہائی اخلاق سے گری حرکات کیں۔ ملزم نے کانٹے والے چمچ گرم کر کے اسے کے جسم کو جلا ڈالا، اس کے بال اور بھنوئیں مونڈ ڈالیں، اس کا گلہ گھونٹتا اور کئی بار اس کے ہاتھ اور پیر باندھ کر اسے بجلی کی تار سے مار پیٹ کی یہاں تک کہ ایک بار تشدد کے نتیجے میں اس کا ایک دانت بھی توڑ ڈالا۔ وہ کئی ماہ تک گھر پر قید اس کا ظلم و ستم برداشت کرتی رہی۔ خاتون کی فارنزک رپورٹ میں اس کے جسم پر کئی زخموں کے نشانات پائے گئے جو جلانے اور نوکیلے اوزاروں سے کھریدنے کے تھے۔

خبر جاری ہے۔۔۔

عدالت میں خاتون کے حق میں گھریلو ملازمہ نے بھی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی مالکن کو مالک نے ایک مہینہ تک کمرے میں لاک کیے رکھا اور اس کی مستقل مار پیٹ کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اسے بھی بغیر اجازت اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ دوسری جانب خاوند کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کو بالکل تشدد کا نشانہ نہیں بنایا، وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اس کا کسی اور چکر چل رہا تھا۔ جب اس نے بیوی کو بتایا کہ وہ اس کی بے وفائی پر طلاق دینے والا ہے تو اس نے خود کو زخمی کر ڈالا تھا۔ تاہم میڈیکل رپورٹس اور گواہوں کے ٹھوس ثبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ثابت ہو گیا کہ ملزمہ نے خود کو زخم نہیں لگائے بلکہ اس کے خاوند کی درندگی کے باعث ایسا ہوا ہے۔
Source: Khaleej Times

Show More

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!